
پاک پتن میں آٹھویں پاس نوجوان نے بغیر کوئی ڈگری حاصل کیے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر طیارہ بنا ڈالا مگر اڑا نہ سکا ۔ سڑک پر لایا تو پولیس نے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔پاکپتن کا باصلاحیت ریڑھی بان فیاض دو سال کی محنت اور اپنی تمام جمع پونجی داؤ پر لگاکر چھوٹا سا جہاز بنانے میں کامیاب ہوا ۔کامیابی پر خوشی سے پھولے نہ سماتا فیاض اپنے بنائے ہوئے جہاز کو تجرباتی پرواز کے لیے جیسے ہی سڑک پر لایا تو پولیس نے دھرلیا ۔
اے ایس آئی کی مدعیت میں درج کیے جانے والے مقدمے میں پولیس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیاض نے حکومت سے اجازت لیے بغیر طیارہ بنایا اور گاؤں کے قریب اڑاتا رہا جبکہ سول ایوی ایشن کی اجازت کے بغیر اس طرح سے جہاز اڑانا غیر قانونی ہے ۔ڈی پی او ماریہ محمودنے سماء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیاض کو جہاز اڑانے میں مہارت حاصل نہیں نہ ہی اس حوالے سے اس کے پاس کوئی ڈگری ہے، دوسرا حفاظتی اقدامات بھی پورے نہیں تھے۔
ڈی پی او کے مطابق فیاض کے پاس پیرا شوٹ وغیرہ بھی نہیں تھا، اگر کہیں کریش لینڈنگ ہوتی تو یہ جانی ومالی نقصان کا باعث بن سکتا تھا۔نوجوان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی محنت سے پیسے جع کر کے اپنے شوق کی تکمیل کیلئے جہاز بنایا، دن رات محنت کی اور جب یہ بن گیا تو بجائے اس کے کہ میری مدد کی جاتی ، الٹا میرے ہی خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔پولیس نے نوجوان کو مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں اسے تین ہزار روپے جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہا کردیا گیا۔
No comments: