
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 4 میں سابق وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیرعلی محمد مہرکے گھر پر مبینہ ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پرعلی محمد مہر پستول کا بٹ لگنے سے زخمی ہوگئے۔ملزمان نے گھر میں گھس کرپہلےنوکروں کو یرغمال بنایا اورپھرعلی محمد مہر کے کمرے گھس کرانہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔گرینٖڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما شہریارمہر اورعلی محمد مہرکےوکیل جاوید میر نے میڈیا سےگفتگو میں بتایا کہ واقعہ بظاہر ڈکیتی کا معلوم ہوتاہے۔واقعہ کے بعد آئی جی سندھ کلیم امام نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے رپورٹ طلب کرلی ۔
فی الحال پولیس کی جانب سے واقعے سے متعلق کوئی حتمی موقف نہیں دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور رہائش گاہ کے اطراف موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جارہی ہے۔پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان نے کلفٹن کے نجی اسپتال میں علی محمد مہر کی عیادت کی ۔ اس دوران میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ صرف کراچی نہیں پورے سندھ کے حالات خراب ہیں ۔ اہم شخصیات کو سیکورٹی فراہم کرنا سندھ حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے ، وزیراعلیٰ سندھ ان واقعات کافوری نوٹس لیں ۔
No comments: