Select Menu

اہم خبریں

clean-5

بین الاقوامی

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

ٹیکنالو جی

دلچسپ و عجیب

کھیل

Misc

Technology

کیلے میں کئی بیماریوں کا علاج


Image result for ‫کیلا بیماریوں کے لیئے‬‎

کیلا سال کے بارہ مہینے دستیاب رہنے والا پھل ہے، جو بہت زیادہ مہنگا بھی نہیں ہوتا۔عام طور پر کیلے کے بغیر کسٹرڈ اور فروٹ چاٹ نامکمل تصور کیے جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ذائقہ کی وجہ سےکیلا شوق سے کھاتے ہیں، لیکن اس کی طبی افادیت سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے، یہ غذائی اجزاءسے بھرپور پھل ہے۔ کیلے میں سیب کی نسبت چار گنا زیادہ پروٹین، دوگنا زیادہ کاربوہائیڈریٹس،تین گنا زیادہ فاسفورس،پانچ گنا زیادہ وٹامن اے اوردیگر وٹامنز اور منرلز بھی سیب کی بہ نسبت دُگنے ہوتے ہیں۔کیلے میں تین قسم کی شوگر پائی جاتی ہے ( سکروز،فرکٹوز اور گلوکوز)، جوکیلے کے ریشوں میں موجود ہوتی ہے۔ ان اجزاءکے ساتھ یہ فوری،دیر پا اور حقیقی توانائی فراہم کرتا ہے۔کیلا ایک ایسا پھل ہے جو ناصرف توانائی سے بھرپور ہے بلکہ اس میں کئی بیماریوں کا علاج بھی پوشیدہ ہے، اس کے علاوہ بعض بیماریوں میں لوگ کیلا کھانے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔

بلڈ پریشر میں مفید

جو افراد بلڈ پریشر کے مرض کا شکار ہیں توانھیں چاہیے کہ کیلے کا استعمال کریں، کیونکہ اس میں قدرتی طور پر الیکٹرولائٹ کی بڑی مقدارموجود ہوتی ہے۔ بلند فشار خون کو معتدل رکھنے میں کیلا بہت مفید ہے ۔کیلے میں پائی جانے والے پوٹاشیم کی بھاری مقدار اور اس کے مقابل نمکیات کی کم مقدار خون کے دورانیہ کو بہتر بناتی ہے۔

ذیابطیس میں استعمال

ذیا بطیس کے مریضوں کے لیے کیلامضر صحت سمجھا جاتاہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ گلائمکس انڈیکس میں شامل ہونے کی وجہ سے کیلا ذیا بطیس کے مرض کے لیے انتہائی مفید ہے اور طبی ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

موٹاپے سے بچاؤ

کیلے کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ اس کو کھانے سے انسان موٹاپے کا شکار ہوسکتا ہے۔ در حقیقت کیلے میں کم لحمیات ہوتے ہیں اور یہ کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلے میں شامل وٹامن بی6، معدنیات اور دیگر اجزاء وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، لہٰذا ایسے افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ کیلا باقاعدگی سے کھائیں۔

توانائی کی فوری بحالی

ایک تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد توانائی کی بحالی کے لئے دو کیلے کھاناکافی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کیلا دنیا کے معروف ترین ایتھلیٹس کا پسندیدہ ترین پھل ہے۔ کیلا ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرنے کے علاوہ اسے فٹ رکھنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔اسے اپنی روزمرہ غذائوں میں شامل کرنا بہت سی بیماریوں سے بچائوکا باعث بنتا ہے۔

ڈپریشن کا توڑ

ایک حالیہ سروے سے ثابت ہوا ہے کہ ڈپریشن کے شکار افراد میں کیلے کے استعمال کے بعد نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کیلے میں ایک خاص قسم کا پروٹین پایاجاتا ہے، جو جسم کو آرام پہنچاتا اور طبیعت پر خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔ وٹامن بی6سے بھرپور اس پھل کے استعمال سے آپ خواب آور ادویات کو بھول جائیں گے ۔کیلا جسم میں خون کی کمی نہیں ہونے دیتاکیونکہ یہ آئرن سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیلا دماغی طاقت میں اضافہ بھی کرتا ہے ۔
تحقیق کے مطابق صبح کے ناشتے اور دوپہر کے کھانے میں کیلا کھانے والے طلباءنسبتاً چاق و چوبند رہتے ہوئے سیکھنے کے عمل کا حصہ بنتے ہیں۔کیلے کا استعمال قبض،سینے کی جلن ،خمار،ذہنی تنائو،اعصابی کھنچائواور السر کے لیےمفید ہونےکے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین کے جسمانی درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے جو ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لئے ضروری ہے ۔
امریکا میں استعمال ہونے والے پھلوں میں کیلا پہلے نمبر پرہے۔ امریکی باشندے مالٹے اور سیب خریدنے سے زیادہ کیلے پر رقم خرچ کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کیلا ایک بیکار چیز ہے اور اس کے طبی فوائد بھی حقائق کے برعکس بیان کیے جاتے ہیں مگریہ تصور قطعی طورپر بے بنیاد ہے۔کیلے میں غذائیت کے ساتھ ساتھ کینسر جیسے مرض سے نجات کے بھی خواص موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق Tumor Necrosis Factor یعنی TNF نامی مادہ کینسرکے جراثیم کو کمزور کرنے یا انہیں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔کیلے کے طبی فوائد کئی حوالوں سے مفید ہیں،یہ دل کی دھڑکن کو معمول پررکھنے اور دماغی فالج سے بچاؤ میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔کیلا کھائیں، کیونکہ اس سے آپ کے جسم میں تازگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھر بھراپن) کو معمولی نہ سمجھے


Related image

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق، آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھر بھراپن)، دل کے امراض کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عارضہ، یعنی انسانی صحت سے متعلق دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مرض میں ہڈیوں کی لچک میں کمی آجاتی ہے اور وہ بھربھرے پن اور نرم پڑ جانے جیسے مسائل سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ ہڈیوں کےکمزور ہو جانے کے باعث ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ہڈی ایک زندہ ٹِشو ہے، جو مستقل طور پر بنتی رہتی ہےاور اس کے پُرانے حصے ختم ہوتے رہتے ہیں۔ ہڈی 30 سے 40 برس کی عمر کے دوران اپنی بھرپور حالت میں ہوتی ہے، جبکہ اس کے بعد جوں جوں عمر بڑھتی ہے، ہڈیاں گھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ، کون سے ایسے خلیے ہیں جو ہڈیوں کو بناتے اور توڑتے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیے، ہڈیوں کو توڑتے ہیں، ان ٹوٹی ہوئی ہڈیوں میں پُرانے خلیے کی جگہ نئے خلیے بنتے ہیں۔ اس عمل کو طب کی زبان میں اوسٹیو بلاسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس طرح، ہمارے جسم کے اندر ہڈیوں کے ٹوٹنے اور بننے کے عمل میں توازن قائم رہتا ہے۔
ڈھلتی عمر، ورزش نہ کرنے، متوازن خوراک کی کمی اور خواتین میں ماہواری بند ہونے کے بعد، ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن یا خستہ ہونے کی بیماری میں ہڈیوں کو توڑنے والے خلیے یعنی اوسٹیو کلاسٹ اپنا کام تیز کرکے اوسٹیو بلاسٹ، جو ہڈیوں کے جوڑنے کے خلیے ہیں، ان کے کام کو ضائع کر دیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز اور بننے کا عمل سُست ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کے بھربھرے پن کا آغاز ہو تا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ہڈیاں زیادہ پتلی اور زیادہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر ذرا سا دباؤ پڑنےسے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، مَردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔ عورتوں میں 45 برس کی عمر کے بعد یہ مرض پیدا ہوتا ہے جبکہ مردوں میں 50 برس میں آسٹیوپوروسس ہوتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کریں تو، غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں75سے 84برس کی 97فیصد، جبکہ 45سے 54برس کی 55فیصد خواتین آسٹیوپوروسس کا شکار ہیں۔ یہ بیماری یوں تو پورے جسم کی ہڈیوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن ریڑھ، گھٹنے، کولہے اور کلائی پر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق سورج کی روشنی یا دھوپ سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرض پاکستان کے دیہی علاقوں سے زیادہ شہروں میں پایا جاتا ہے۔ عموماً ہمارے یہاں شہروں میں رہنے والے لوگ جن کا دھوپ میں نکلنا نہیں ہوتا، دودھ نہیں پیتے اور مچھلی نہیں کھاتے، ان لوگوں کو ہڈیوں کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں، ان میں آسٹیوپوروسس کی شرح کم ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ہم نے جتنا جدید لائف اسٹائل اختیار کیا ہے، مثلاً ایئر کنڈیشنر میں سونا، دھوپ میں نہ نکلنا اور موٹاپے کے ڈر سے مناسب غذا نہ لینا،ان تمام عوامل کا نتیجہ آسٹیوپوروسس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، آسٹیوپوروسس کی بعض دیگر وجوہات میں بڑھتی عمر، خاندان میں پہلے سے اس بیماری کا موجود ہونا، جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی عادت، بہت زیادہ کیفین کا استعمال، کیلشیم کی کمی، تھائرائڈ ہارمونز کا مسئلہ، اور اسٹیرائڈز کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔اکثر ماہرین اسے ایک ’خاموش بیماری‘ کا نام بھی دیتے ہیں، کیونکہ اس میں ہڈیوں کی فرسودگی کا عمل کسی تکلیف کے محسوس ہوئے بغیر سُست روی سے جاری رہتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ، آسٹیوپوروسس ہونے کے بعد مریض درد یا تکلیف محسوس کرنے لگے۔ جن لوگوں کو یہ مرض ہو، اگر وہ کسی وجہ سے گِرجائیں، تو گِرنے اور اُٹھنے کے دوران، ان کے ہاتھوں یا پیر کی ہڈی میں فریکچر ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی علامات عموماً دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی ابتدائی علامات میں، مریض کو جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ اُٹھنے بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ، اگر اس مرض میں مبتلا افراد، دواؤں سے بچنا چاہتے ہیں تو صرف بیس منٹ روزانہ سن باتھ لیں (سورج کی دھوپ میں گزاریں)۔ اگر صرف بیس منٹ بھی ایسا کیا جائے تو ہمارے جسم کی روزانہ کی وٹامن ڈی تھری کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ یہ وٹامن ہڈیوں میں کیلشیم کو جمع کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہماری جلد میں یہ وٹامن پہلے سے موجود ہوتا ہے، جو سورج کی روشنی جسم پر پڑنے سےمتحرک ہو جاتا اور ہڈیوں تک کیلشیم کو پہنچا نا شروع کردیتا ہے۔اس کے علاوہ، غذا کے ذریعے مردوں اور خصوصاً خواتین کو کیلشیم ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ یہ دودھ اور اس سےبنی دیگر اشیاء، ہری سبزیوں اور مچھلی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، فاسفورس، پروٹین اور نمک کا روزانہ ضرورت سے زیادہ استعمال کرناآسٹیوپوروسس کی وجہ بنتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ پروٹین اور فاسفورس پر مشتمل غذائیں، پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں۔ ریفائنڈ شوگر بھی جسم میں کیلشیم کی کمی بڑھاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، ہر سال پاکستان میں ہڈی ٹوٹنے کے کئی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ آسٹیوپوروسس ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے، احتیاط کے علاوہ، جسمانی سرگرمیوں اور غذا کی جانب توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔



مکئی کھائیں اور کئی بیماریوں سے محفوط رہو


Related image

قدرت نے کئی ایسی چیزیں پیداکی ہیں جن کو انسان اپنی خوراک کا حصہ بناکر کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے اور اگر بیماریوں کا شکار ہو بھی گیا ہوتو ان کو خوراک کا حصہ بناکران سے مستفید ہوسکتا ہے۔آج ہم آپ کو ایک ایسی چیز کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جو آپ کو ہمیشہ صحت مند رکھنے میں اہم کردارادا کرسکتی ہے۔ ہم میں سے بہت کم لوگ ہی ایسے ہونگے جومکئی کا استعمال روز مرہ زندگی میں کرتے ہونگے جبکہ پہلے اس چیز کا باقاعدہ استعمال کیا جاتا تھا اور اس کی روٹی بھی بنائی جاتی تھی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اب اس کا استعمال بہت کم ہوگیا ہے ۔لیکن ہمیں پوری امید ہے کہ آپ یہ پڑھنے کے بعد مکئی کے استعمال کو اپنی روز مرہ زندگی میں شامل کرلیں گے۔تو آئیے جانتے ہیں مکئی سے ہمیں کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
1- مکئی میں وٹامن بی موجود ہوتا ہے جو انسان کو جسمانی توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
2-  اس میں نشاستہ موجود ہوتا ہے اور ہم سب ہی تقریبا جانتے ہیں کہ نشاستہ انسانی جسم کی توانائی کو بحال کرنے کے لئے کتنا مفید ہے۔
3- مکئی کا استعمال بینائی کو بہتر بنانے میں نہایت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
4- مکئی میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو کینسر کے مرض کو آپ کے قریب بھی آنے نہیں دیتے۔
5- مکئی مختلف سبزیوں اور پھلوں کی طرح انتہائی صحت بخش ہے اور اس میں بھی وہ چیزیں شامل ہوتی ہیں جو ہم مختلف سبزیوں اور پھلوں سے حاصل کرتے ہیں۔
6- مکئی میں فاسفورس، مینگنیز، زنک، کاپر اور آئرن جیسے انتہائی توانائی بخش معدنیات پائے جاتے ہیں۔
7- مکئی کے استعمال سے قبض کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔
8- مکئی کی مدد سے خون کی کمی پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں خون بنانے کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
9- مکئی کا استعمال آپ کو ہائی بلڈ پریشر اور زیابطیس کی بیماری سے بھی بچا کر رکھتا ہے۔
ہمیں پوری امید ہے کہ آپ مکئی کے ان حیرت انگیز فوائد کے بارے میں جاننے کے بعد ضرور اس کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں گے کیونکہ ہر انسان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک صحت مند زندگی بسر کرے تاکہ دوسروں کے لئے بوجھ نہ بن جائے۔




خشخاش کے طبی فوائد


Related image

خشخاش کے بیج سفید اورسیاہ دوقسم کے ہوتے ہیں لیکن عام طورپرسفید بیج کا  استعمال  زیادہ  کیا جاتا ہے  ۔یہ مختلف کھانو ں میں استعمال کئے جاتے  ہیں زیادہ تر لوگ کوفتے میں اس کا استعمال کرتے ہیں  مگر  کھانوں میں استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے طبی فوائد بھی ہیں کیونکہ  اس میں  قدرتی طورپر میگنیشیم،میگنیز،آیوڈین،زنک،تھیامن،فولیٹ،کیلشیم،آئرن،فاسفورس ،اومیگاتھری فیٹی ایسڈ اورفائبر پائے جاتے ہیں۔اینٹی انفلیمیشن خصوصیات کے باعث دیگربیماریوں کے لئے بھی مفید ہے ۔

بھرپورنیند 

خشخاش اورتربوز کے بیج برابر مقدار میں پیس  کررکھ لیں رات کو  سونے سے آدھے گھنٹے پہلے دودھ کے ساتھ ایک چمچ کھالیں ۔

سوکھی خارش

خشخاش کا  پاؤڈر  بنا لیں  اور اس میں تھوڑا سا لیموں کا رس ملا لیں اور اس میں اتنا پانی ڈال لیں کہ لوشن بن جائے  اور اسے متاثرہ جگہ پر لگا لیں خارش جتم ہوجائے گی ۔

دماغی صحت

خشخاش اور بادام کو پیس لیں  اور سونے سے پہلے ایک  چمچ کا استعمال کریں  اس سے دماغی صحت میں بہتری آئے گی ۔

وزن میں کمی

خشخاش میں اومیگاتھری فیٹی ایسڈ پائے جاتے ہیں جووزن کو کم  کرنے  میں اہم کرداراداکرتے ہیں اس کا روزانہ کا استعمال آپ کے وزن  میں کمی کا سبب بن سکتا ہے  ۔

نزلہ زکام  اورکھانسی

خشخاش کوپانی میں پکاکرایک چٹکی نمک ملا لیں   اورٹھنڈاہونے پرچھان کرپی لیں نزلہ  زکام اور کھانسی ٹھیک ہوجائے گی  ۔

جوڑوں کادرد

خشخاش کا تیل جوڑوں کے درد کے لئے بہہت مفید ہے اگر  دوا کی جگہ اس کا استعمال  کیا جائے  تو درد بھی تھیک ہوجائے گا اور دوا کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

سرکی خشکی

سرکی خشکی کی وجہ سے کافی لوگ پریشان نظر آتے ہیں   اور اس کا آسان سا علاج ہے کہ خشخاش کو پیس کر اس میں دہی ملا لیں اور جہا ں  جہا  ں خشکی  ہے اس جگہ پر لگائیں  خشکی ختم ہوجائے گی ۔


مچھلی کےفوائد



Image result for fry fish

مچھلی اللہ کادیا ہوا انمول تحفہ ہے اور یہ ہمارے جسم کے لئے بہت فائدے مند ہے مچھلی سے ہمارے جسم کو پروٹین حاصل ہوتا ہے اور اس کے کھانے کا نقصان بھی نہیں ہوتا ہے ۔اگر کوئی شخص بیمار ی کی وجہ سے کمزور ہو تو مچھلی کے استعمال سے کمزوری ختم ہوجاتی ہے مگر آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں مچھلی کے 5 ایسے فوائدجس کا آپ کو اس سے پہلے علم نہیں ہوگا۔
  1. مچھلی ہماری آنکھوں کے لئے بہت فائدے مند ہے اس کہ کھانے سے بینائی کی کمزوری ختم ہوجاتی ہے ۔
  2. مچھلی سے دماغی کمزوری بھی ختم ہوتی ہے اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔
  3. مچھلی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دل کی بیماری نہیں ہوتی ہے ۔
  4. اعصابی دباؤ کو کم کرنے کے لئے بھی مچھلی کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے ۔
  5. سردیوں میں مچھلی کھانے سے جسم کو توانائی حاصل ہوتی ہے جس سے جسم کو گرمائش حاصل ہوتی ہے ۔


گٹھنے کے جوڑوں کے درد سے نجات کے لیئے حیرت انگیز نسخہ


Image result for ‫گٹھنے کے جوڑوں کے درد سے نجات‬‎

جسم کے ہر جوڑ کی اپنی اہمیت ہے لیکن گھٹنے کے جوڑوں کی اہمیت ان سب میں زیادہ ہے۔ کھڑے ہونا ہو، چلنا ہو، بیٹھنا ہو، جھکنا ہو یا بھاگنا، ہر طرح کی حرکت کا انحصار گھٹنوں کے جوڑوں پر ہی ہوتا ہے۔آپ بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کی جوڑوں میں سوزش ہوجائے تو انسان کیلئے چلنا پھرنا بھی دوبھر ہوجاتا ہے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ گھٹنوں میں معمولی سی تکلیف بھی محسوس ہو تو فوراً اس کے علاج پر توجہ دیں ورنہ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ سنگین ہوتا جاتا ہے۔
گھٹنوں کے مسائل کے لئے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ہی بہتر طریقہ ہے لیکن اگر کسی قدرتی نسخے سے فائدہ ہو جائے تو اس سے بہتر کیا ہے۔ ایک غیر ملکی ویب سائٹ پر گٹھنے کے جوڑوں کے درد سے نجات کیلئے ایک ایسا ہی سادہ نسخہ شائع کیا گیا ہے۔
اس نسخے کی تیاری کے لئے یہ اجزاء درکار یوں گے۔

٭ لچکدار پٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک عدد
٭ نمک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو چمچ
٭ انڈے کی زردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو عدد

زردی میں نمک ڈال کر اسے اچھی طرح پھینٹ لیں۔ پھر روئی پر لگا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں اور اس کے اوپر پٹی باندھ لیں۔ دو گھنٹے تک یہ پٹی لگی رہنے دیں اور پھر اسے کھول دیں۔ دن میں چار مرتبہ یہی عمل کریں فرق آپ کو خود ہی محسوس ہونا شروع ہوجائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک میں میگنیشیم موجود ہوتا ہے جو درد میں کافی کمی لاتا ہے۔ انڈے کی زردی میں معدنیات اور پروٹین وافر مقدرا میں پائی جاتی ہے جو جلد میں جذب ہوکر ہڈی اور عضلات کو طاقت دیتی ہے۔اس قدرتی نسخے کے استعمال سے جلد ہی مثبت نتائج محسوس ہونے لگتے ہیں، تاہم اگر علامات باقی رہیں تو ماہر معالج سے رابطہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔


کھانے کے سوڈے اور لیموں کا ایک ساتھ ایسے استعمال کریں اور کمال دیکھیں


Image result for lemon and soda

لیموں قدرت کی ایک ایسی نعمت ہے جس کے بے شمار فوائد سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن کیا آپ جانتے ہیں اگر لیموں اور بیکنگ سوڈے (کھانے کے سوڈا) کو ایک ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے تو جسم میں کیسی حیران کن تبدیلی مرتب ہوتی ہے؟اگر نہیں جانتے تو آج ہم آپ کو اس کے ایسے فوائد بتائیں گے جنہیں جان کر آپ بھی باقاعدگی سے اس کا استعمال شروع کردیں گے۔
بیکنگ سوڈے کو عرف عام میں میٹھا سوڈا بھی کہا جاتا ہے، اس میٹھے سوڈے اور لیموں کے علیحدہ علیحدہ فوائد سے تو واقف ہوں گے ہی لیکن اگر انہیں ملاکر استعمال کیا جائے تو ان کی طاقت کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔سوڈے اور لیموں کا ایک ساتھ استعمال تیزابیت کی کمی، نظام انہضام کی بہتری، قبض سے نجات، سینے کی جلن کے خاتمے، آنتوں کی سوزش سے چھٹکارے اور گردوں کی صفائی کا کام انجام دیتا ہے۔اس کے علاوہ یہ متعدد دیگر امراض سے بھی بچاتا ہے، اس نسخے کو تیار کرنے کے لئے سب سے پہلے ایک گلاس پانی میں آدھے لیموں کا رس نچوڑیں اور اس میں ایک چمچ کھانے کا سوڈا شامل کرلیں۔
اب اسے اچھی طرح حل کرکے روز نہار منہ پئیں، ایک ہفتے تک اس عمل کو جاری رکھنے کے بعد دو ہفتے کا وقفہ کریں اور پھر اسی طرح ایک ہفتے تک اس کا استعمال کریں۔یہ نسخہ مدافعتی نظام کی بہتری کا باعث بھی بنتا ہے، اس سے جلد پر موجود جھریوں کا بھی خاتمہ ہوتا ہے ساتھ ہی یہ کینسر کے خلاف جسم میں مزاحمت کو پیدا کرتا ہے۔اس نسخے کے استعمال سے جوڑوں کے درد میں بھی افاقہ حاصل ہوتا ہے جبکہ موٹاپے کے شکار افراد کو اس کا استعمال لازمی کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ان کے لئے بھی بے حد فائدہ مند ہے۔اس نسخے پر عمل کرکے آپ اپنے جسم میں ایسی مثبت تبدیلیاں آتی دیکھیں گے کہ آپ خود حیران رہ جائیں گے۔


بے اولادی کا علاج صرف اک چھوٹی چیز سے


Image result for ‫لونگ اور سیب‬‎

ایلوپیتھک اور حکیمی علاج تو لوگ کرواتے ہی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے  دیگر قدرتی اشیاءمیں بھی بہت سے فائدے رکھیں ہیں جیسا کہ ہر پھل میں کوئی نہ کوئی ایسی خوبی رکھی ہے اور یہ ہمارے جسم کو توانائی پہنچاتے ہیں، اسہی طرح اکثر پھل اور سبزیوں میں بیماریوں سے علاج کی خاصیت پوشیدہ ہے تاہم نظر شناس لوگ ان پھلوں اور سبزیوں سے گہری واقفیت کی بناء پر ٹوٹکے ذریعے بہت سے بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اور اس میں ان کو کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے۔ اسہی طرح لونگ اور سیب کا مشترکہ بھی ایک ٹوٹکا ہے جس سے بے اولاد افراد افاکہ اٹھاسکتے ہیں۔
نسخہ بنانے کے لئے لونگ اور سیب کی ضرورت ہوگی ۔
ایک عدد درمیانہ سیب لیں اس میں ڈھیر ساری لونگ چُبا دیں اور اسے 24 گھنٹے کیلئے کسی محفوظ جگہ پر رکھ دیں 24 گھنٹے گزرنے کے بعد سیب میں سے لونگ کو نکال لیں اور پھر سیب کو مرد حضرات کھالیں   – صرف مرد حضرات اس سیب کا استعمال کریں اس نسخہ کا استعمال اس شخص کو 40 دن تک کرنا ہے  اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کے اس علاج کے دوران  کوئی بھی ناغہ نہ ہو، ورنہ  ناغہ ہونے کی صورت میں اس عمل کو دوبارہ شروع سے دہرانہ پڑے گا ۔

Image result for ‫لونگ اور سیب‬‎

سر کی خشکی ختم ، بس یہ آزمودہ ٹوٹکے آزمائے


Image result for dandruff

سر کی خشکی آج کل ایک بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، اگر یوں کہا جائے کہ ہر دوسرا شخص ہی اس سے پریشان ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اکثر لوگ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صبح و شام کوئی نہ کوئی ٹوٹکے ڈھونڈتے اور ان پر عمل  کرتے نظر آتے ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔لیکن اب آپ بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ آج ہم آپ کے لئے ایک ایسا نسخہ لائے ہیں جس پر عمل کرکے سر پر موجود خشکی کو جڑ سے اکھاڑا جاسکتا ہے۔ اس نسخے کو استعمال کرنے مختلف طریقے ملاحظہ کریں۔

پہلا نسخہ ناریل کا تیل

سر سے خشکی دور کرنے کا سب سے بہترین حل کھوپرے کے تیل میں پوشیدہ ہے۔ ایک امریکی ماہرِ جلد کا کہنا ہے کہ کھوپرے کا تیل سر میں خشکی کی پرتوں کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ کھوپرے کا تیل سر کی جڑوں میں اچھی طرح مساج اور مالش کیا جائے اور اسے 15 سے 20 منٹ تک ایسے ہی چھوڑ دیا جائے۔ تیل جتنی دیر رہے گا، اتنا ہی فائدہ ہوگا۔

سیب کا سرکہ

سیب کے سرکے میں پی ایچ کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو سر میں خشکی کو روکتی ہے۔ تاہم سرکے کو سر میں براہِ راست نہ لگایا جائے بلکہ پہلے اس میں برابر مقدار پانی شامل کرکے اس کی شدت کو ہلکا کیا جائے۔ اب اس محلول کو دھیرے دھیرے سر میں مالش کریں اور 15 منٹ بعد کسی اچھے شیمپو سے سر دھولیں، ایک ہفتے میں خشکی سے نجات مل جائے گی۔

ایسپرین

ایسپرین کی گولی تقریباً ہر گھر میں ہی موجود ہوتی ہے، اس میں سیلی سائیلک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو خشکی کو دور کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ آپ کو کرنا یہ ہے کہ ایسپرین کی چند گولیاں لیں اور انہیں کچل کر پاؤڈر بنالیں، اب اس میں پانی ملاکر اس کا ایک پیسٹ بنالیں اور اسے سر کی جڑوں میں لگائیں۔ اگر آپ چاہیں تو اسے کسی شیمپو کے ساتھ میں ملا کر بھی سر دھو سکتے ہیں۔









ایلو ویرا سے وزن گھٹائیں


Image result for ‫ایلو ویرا سے وزن گھٹائیں‬‎

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دیکھنے میں سادہ سا لگنے والا ایلو ویرا کا پودا آپ کا بڑھتا وزن کم کرنے میں بھی مدد کرسکتا ہے۔جی ہاں ۔۔ ایلو ویرا نہ صرف آپ کی جلد اور بالوں کیلئے مفید ہے، بلکہ اس کے ذریعے آپ اپنا وزن بھی کم کرسکتے ہیں۔ایک اور دلچسپ بات یہ کہ آپ میں  سے بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ ایلو ویرا کو گوار گندل بھی کہا جاتا  ہے۔ ایلو ویرا کے جوس کا روزانہ استعمال موٹاپے اور جسم کی چربی کو ختم کرتا ہے-وزن کم کرنے کیلئے فکر مند افراد کو چاہئے کہ روزانہ اپنے دن کا آغاز ایک گلاس ایلو ویرا جوس سے کریں گے تو آپ کے جسم سے اضافی چربی ختم ہو جائے گی۔ اس کے جوس میں موجود معدنیات وزن کی کمی میں مدد دیتی ہیں۔اس کا جوس پینے سے میٹابولزم بڑھتا ہے، جو کھانے کو جلد ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے اور آپ کا وزن جلدی گھٹتا ہے۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کا جوس کیسے بنانا ہے تو آپ ایلو ویرا کے سبز چھلکے الگ کرلیں۔ اس کی جیل، شہد اور لیموں کا رس بلینڈر میں ڈال کراچھی طرح مکس کریں اور پی لیں، روزانہ اس کے استعمال سے وزن کم ہو جائے گا۔اس کے علاوہ اس کا جوس نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے۔ معدے میں موجود غذاؤں کے زہریلے اثرات کو ختم کرتا ہے۔ تیزابیت، السراور معدہ کے زخموں اور سوزش کو ختم کرتا ہےاورقبض کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ اس سے پیٹ بلکل صاف ہو جاتا ہےاور جسم کی چربی ختم ہوتی ہے۔


ایکو پریشر کی مدد سے آسانی سے وزن کم کریں

Image result for weight loss

چینی لوگ ایکو پریشر کی مدد سے علاج کرتے ہیں اور ان کا یہ طریقہ کار برسوں سے چلا رہا آرہا ہے جوکہ اب ان کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ان پریشر پوائنٹ کی مدد سے آپ کے جسم کو انرجی حاصل ہوتی ہے۔کیونکہ یہ پریشر پوائنٹ جسم کے کئی اعضاء سے منسلک ہوتے ہیں۔ جب آپ ان پوائنٹس پر بھرپور پریشر دیتے ہیں تو اس سے آپ کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایکوپریشر پوائنٹ کی مدد سے نہ صرف آپ کی صحت اچھی ہوتی ہے بلکہ اس سے آپ کے وزن میں بھی نمایاں کمی ہوتی ہے۔ یہ پوائنٹس آپ کی بھوک پر کنٹرول کرتے ہیں اور ساتھ آپ کا نظام ہاضمہ بھی بہتر بناتے ہیں۔اگر آپ گھر بیٹھےہی اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو ان ایکو پریشر پوائنٹس پر ہلکا مساج کریں۔ درج ذیل دیئے گئے پریشر پوائنٹس پر مساج کریں اور اپنے وزن میں کمی کو یقینی بنائیں۔

٭کان

Related image Image result for acupressure point ear


اپنے انگوٹھے کو کان پر موجود ٹرائی اینگل والی جگہ پر رکھیں، اب اپنے جبڑے کو کھول بند کریں۔ دن میں 2 بار اس پوائنٹ کو دبانے سے آپ کے جسم کو انرجی حاصل ہوتی ہے اور وزن میں بھی کمی آتی ہے۔

٭ ہونٹ کا اوپری حصہ

Image result for acupressure point upper lips
دن میں جب بھی آپ کو بھوک لگے یا کوئی گھبراہٹ یا فکرمند محسوس کررہے ہوں تو  ہونٹ اور ناک کے بیچ میں موجود حصے کو 1 سے 5 منٹ تک کےلئے دبا کر رکھیں۔ اس سے آپ کی کیفیت میں فرق آئے گا۔

٭ گھٹنے

Image result for acupressure point knee for weight loss
اپنے گھٹنے سے چار انگلیاں چھوڑ کر جو حصہ ہے اس پر 2 منٹ پر پریشر رکھیں۔ اس سے آپ کا معدہ کے نظام بہتر ہوگا۔

٭کہنی

Image result for acupressure point elbow for weight loss
اپنے انگوٹھے کی مدد سے کہنی کے اوپر والے حصے کو 1 منٹ تک دبائیں۔ اس سے آپ کے جسم میں موجود اضافی گرمی  ختم ہوگی۔

٭ ٹخنے

 Image result for acupressure point ankle for weight lose Image result for acupressure point ankle for weight lose
پاؤں کے سائیڈ پر ٹخنوں سے 5 سینٹی میٹر اوپر موجود حصے کو اپنے انگوٹھے کو روزانہ 1 منٹ کے لئے دبا کر رکھیں اور پھر پریشر کو آہستہ سے ختم کریں۔حاملہ خواتین اس پریشر پوائنٹ کو استعمال نہیں کریں۔


کیلے اور آلو کا استعمال انسانی صحت کیلئے انتہائ مفید ہے


Image result for potato banana

ایک   تحقیق  سے یہ  ثابت ہوا  ہے کہ روز مرہ  زندگی میں کیلے اور آلو کا استعمال انسانی صحت کیلئے انتہائ مفید ہے ۔تحقیق نے بالخصوص تجویز کیا  کہ مزاحمتی اسٹارچ سے مالا مال غذائیں آنتوں کی صحت اور  آسودگی کیلئے بہترہیں۔محققین نے تحقیق میں مزاحمتی اسٹارچ کے صحت کیلئے ممکنہ فوائد کو  دیکھا (مزاحمتی اسٹارچ ،اسٹارچ کی ایک قسم ہے جو چھوٹی آنت میں ہضم نہیں ہوتی، اسے ڈائیٹری فائبر سمجھا جاتا ہے)۔
مزاحمتی اسٹارچ کی کچھ اقسام قدرتی طور پر غذاؤں میں پائی جاتی ہیں جیسے کہ کیلے ، آلو، اناج وغیرہ اور کچھ بنا کر غذاؤں میں شامل کی جاتی ہیں۔کی جانے والی تحقیق نے یہ دکھایا کہ مزاحمتی اسٹارچ آنتوں کی صحت اور آسودگی بڑھانے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔




شہد کے فائدے

Related image

شہد دنیا کی بہترین غذاؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے نیم گرم پانی کے ساتھ شہد لینا اچھی صحت کو فروغ دیتا ہے۔ ہر کسی کو روزانہ شہد پانی پینا چاہیئے۔
درج ذیل شہد پانی کے کچھ فوائد ایسے ہیں جو ہمیں معلوم ہونے چاہیئں

خراب گلے کا علاج

شہد پانی کو باقاعدگی سے پینے سے آپ نزلہ ،ذکام سے دور رہیں گے۔ یہ آپ کے خراب گلے اور کھانسی کےعلاج میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ڈیٹاکس

شہد پانی بہترین ڈیٹاکس تصور کیا جاتا ہے۔ یہ آپ کے جسم سے ٹاکسن کو صاف کرتا ہےاور ہاضمے کو بہتر کرتا ہے۔

قوت مدافعت کی مضبوطی

انزائمز، وٹامنز اور منرلز سے مالا مال شہد پانی آپ کے مدافعتی نطام کو مضبوط کرتا ہے اور آپ کو نقصاندہ بیکٹیریا سے بچاتا ہے۔

الرجی کم کرتا ہے

شہد پانی کا مستقل استعمال آپ کو بہت سی ماحولیاتی الرجی سے بچاتا ہے۔

دل کیلئے بہترین

شہد پانی کا استعمال کولیسٹرول کی سطح کو قابو میں رکھتا ہے اور دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ یہ ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔












گلا خراب ہونے کی صورت میں یہ ٹوٹکا آزمائے


Related image

گلے کا  خراب ہونا چڑچڑے پن کا سبب ہو سکتا۔ گلے کا یہ معاملہ  خراش پڑنے سے شروع ہو کر کھانسی ہونے تک جاتا ہے۔ یہ سردی یا وائرس کے سبب ہونے والی سوجن کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ اگرچہ گلا خراب ہونے کی بہت سی ادویاء ہیں لیکن قدرتی اجزاء کی مدد سے اس تکلیف سے بآسانی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ایسی چند تراکیب ملاحظہ ہوں جو گلا خراب ہونے کی صورت میں راحت پہنچا سکتے ہیں

دودھ ہلدی

دودھ ہلدی خراب گلے سے نجات پانے کیلئے روایتی علاج ہے اور اپنی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے سبب کھانسی سے بھی بچا تا ہے۔

لونگ اور شہد

اپنی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے سبب یہ نہ صرف گلے کی خراش میں راحت بخشتا ہے بلکہ گلے کا درد  بھی دور کرتا ہے اور گلے کو لاحق انفیکشن کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔

میتھی کا پانی

میتھی  کے بیج اینٹی بیکٹیریل مرکبات سے بھرے ہوتے ہیں جو آپ کو گلے کی تکلیف سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

انار کے چھلکے

اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی بیکٹیریل مرکبات کے متحمل انار کے چھلکے گلے کی تکلیف میں آرام بخشتے ہیں۔











دہی کا استعمال صحت کے لئے انتہائی ضروری

Related image

دہی ایک ایسی غذا جس سے ہم کئی طرح سے افادہ حاصل کرسکتے ہیں دہی کا استعمال صحت کے لئے انتہائی ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس میں جو معدنیات اور وٹامنز پائے جاتے ہیں وہ انسان کو بھر پور توانائی فراہم کرتے ہیں۔دہی کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دودھ سے بننے والی ایک بہترین غذا ہے۔دہی وہ غذا ہے جس کا استعمال سردی، گرمی ہر موسم میں کیا جاتا ہے ۔دہی کا استعمال انسانی صحت پر نہایت مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ توآئیے دہی کے چند ناقابل یقین فوائدپر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

وزن کم کرنے کی صلاحیت

وزن کم کرنے کے حوالے سے ماہرین ہمیشہ سے ہی اس بات کا مشورہ دیتے نظر آئے ہیں کہ دہی کا استعما ل کیا جائے۔ ڈاکٹرز بھی وزن گھٹانے کے لئے دہی کو لازمی جز قرار دیتے ہیں۔ دہی میں کیلشیم موجود ہوتا ہے جو کالیسٹرول بننے سے روکتا ہے، کالیسٹرول موٹاپے اور ہائپر ٹینشن جیسے مسائل کو جنم دیتا ہے۔اب جب کالیسٹرول ہی پیدا نہ ہوگا تو آپ کا وزن بھی نہیں بڑھے گا اور جسم کی چربی بھی پگھلے گی۔

نظام ہاضمہ کے لئے مفید

دہی کا استعمال نظام ہاضمہ کے لئے بھی نہایت مفید ہے کیونکہ دہی میں ایسے معدنیات شامل ہوتے ہیں جو تیزابیت نہیں ہونے دیتے اور دوسری غذاﺅں کو بھی ہضم کردیتے ہیں۔دہی میں موجود غذائی اجزاءباآسانی ہضمی نالی میں جذب ہوجاتے ہیں جو ہمیں تندرست و توانا رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی

دہی ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے کے لئے ایک معاون غذا ہے اس میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی نمایاں مقدار پائی جاتی ہے جو ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔دہی کا مستقل استعمال انسان کو دیگر مضر امراض سے بھی بچاتا ہے۔

قوت مدافعت بڑھانے کی صلاحیت

دہی کا استعمال انسان میں قوت مدافعت کو بڑھانے میں بھی اپنا کردار اداکرتا ہے،جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسان میں قوت مدافعت جتنی زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی کم بیماریوں کا شکار ہوگا۔قوت مدافعت کی زیادتی انسان کو تمام قسم کی اندرونی اور بیرونی بیماریوں سے بچاکر رکھتی ہے۔

بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے مفید

دہی کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے بھی بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ دہی میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ بلڈ پریشر کو نارمل سطح پر برقرار رکھ سکے۔دہی میں پوٹاشیم کی مناسب مقدار بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

خوبصورتی میں اضافے کا باعث

آج کے دور میں ہر انسان دوسرے سے خوبصورت نظر آنا چاہتا ہے تو ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ دہی کو جلد یا بالوں پر لگایا جائے تو اس سے نہایت حیرت انگیز نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔دہی کو چہرے پر لگانے سے جلد تروتازہ ہوجاتی ہے اور ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ چہرے پر دہی کا مساج کرنے سے یہ وائٹننگ بلیچ کا کام کرتا ہے اور جلد کو نرم و ملائم بناتا ہے جبکہ بالوں میں لگانے سے خشکی کاخاتمہ بھی کرتا ہے۔


چیونگم چبانا صحت کے لئے مفید


Image result for ‫چیونگم چبانا‬‎

اکثر اوقات لوگ کام کے دوران چیونگم چباتے نظر آتے ہیں، عموما یہ دماگ کو مصروف رکھنے اور بوجھ میں کمی کی علامت قرار دی جاتی ہے۔ اس سے پر یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مسوڑوں کے لئے بیحد نقصان دہ ہے۔ پر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ ایک بہت فائدے مند چیز ہے، جسے کھا کر آپ بہت سے فائدے اٹھا سکتے ہیں۔ ماہرین سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ چیونگم دانتوں، مسوڑھوں اور پیٹ کی کئی بیماریوں کے لیے مفید ہے،

چیونگم چبانا صحت کے لئے مفید 

چیونگم چبانے سے دانت صحت مند ہوتے ہیں۔ انسان چوکنا رہتا ہے اور یہ ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

فلوسنگ کا متبادل

یقیناً چیونگم چبانا برش کرنے کا متبادل ہر گز نہیں ہوسکتا، مگر یہ اضافی مددگار ضرور ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چیونگم چبانا فلوسنگ کے طور پر فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

سانسوں کی تازگی

چیونگم منہ میں آنے والی بدبو سے نجات میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چیونگم چبانے کا عمل سانسوں کو تازگی اور زبان کو خوشگوار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چیونگم میں پائی جانے والی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہیں، جو کھانا کھانے کے بعد منہ میں پھنس جانے والے ذرات کو نکالنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ اگر چیونگم شوگر فری ہے تو اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کیویٹی والے دانتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

توجہ مرکوز کرنے میں مددگار

چیونگم چبانے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ ذہن کو ایک ہی کام پر مرکوز کر دیتی ہے، جس سے اس کام میں کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ہم نے ایک تحقیق کے مطابق چیونگم چبانے سے انسان کو بہتر توجہ دینے میں مدد ملتی ہے۔

دباو میں کمی کا باعث

اگر آپ کسی بھی قسم کے دباوکا شکار ہیں تو چیونگم استعمال کریں۔ چیونگم چبانے سے ہر طرح کے دباﺅ سے فوراً نجات مل سکتی ہے

زیادہ کھانے کی عادت میں کمی

ہم نے یہ نہیں کہہ سکتے کہ چیونگم کھانے سے زیادہ کھانے کی بری عادت کو مکمل کنٹرول کیا جاسکتا ہے، مگر یہ اس میں کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ چیونگم زور زور سے چبانے سے تھوک کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور یہ عمل پیٹ میں موجود تیزابیت کو متحرک کردیتا ہے۔ اس طرح دماغ کنفیوڑ ہو جاتا ہے اور بھوک کم محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

نظام انہضام میں بہتری

چونگم کو چبانے سے نظام انہضام مزید بہتر ہوجاتا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ چبانے کے عمل سے جب تھوک بننے کا عمل تیز ہوتا ہےتو پیٹ کے اندر تیزابیت کو خاص سطح پر رکھتا ہے، جس سے ہضم کرنے کا عمل بہتر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کھانے کے بعد چیونگم چبانے سے دانتوں کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔

سگریٹ نوشی چھڑوانے میں مددگار

چیونگم چبانے سے سگریٹ کی شدید طلب میں بہت حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ یہ سگریٹ کی طلب کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے مکمل طور پر چھوڑ دینے کے عزم کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔
لہذا اگر آ پ ان پریشانیوں سے چجٹکارا چاہتے ہیں تو چیونگم چبانا اپنی عادت بنائیں۔









زیتون کے بے شمار فائدے


Related image

زیتون کرئہ ارض پر موجود تمام نباتات میں سب سے قدیم تصور کیا جاتا ہے، آپ ﷺ اسے پسند بھی فرماتے تھے اور متعدد امراض کے علاج کے لئے تجویز بھی فرمایا کرتے تھے۔قرآن مجید اور احادیث میں بھی زیتون کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔
موجودہ دور میں دیکھا گیا ہے کہ آدمی اپنی پریشانیوں کا مقابلہ کرتے کرتے صحت بھی کھو بیٹھتا ہے اور قبل از وقت ہی بڑھاپے کا شکار بھی ہوجاتا ہے ۔لیکن ایسے افراد جو فکر اور پریشانیوں کی وجہ سے اپنی صحت کھو بیٹھتے ہیں یا اور کسی وجہ سے کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں تو ان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیو نکہ زیتون میں بہت سی بیماریوں کے راز پوشیدہ ہیں اور آج ہم وہی آپ کو بتانے جارہے ہیں۔
٭روغن زیتون کولیسٹرول کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
٭روغن زیتون کا استعمال بلڈ پریشر کو بڑھنے نہیں دیتا اور متوازن رکھتا ہے۔
٭زیتون کا تیل دودھ کی تھوڑی مقدار کے ساتھ ملا کر پینے سے السر سے مکمل نجات حاصل کی جاسکتی ہے اور معدے سے تیزابیت کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔
٭زیتون کے تیل کا استعمال کبھی آنتوں اور پیٹ کے سرطان کا شکار ہونے نہیں دیتا۔
٭زیتون کے تیل سے جسمانی اعضاءکو قوت اور توانائی حاصل ہوتی ہے۔
٭زیتون کا تیل سلائی کے ذریعے آنکھوں میں لگانے سے آنکھوں کی سرخی اور سوزش دور ہوجاتی ہے۔
٭روزانہ بالوں میں زیتون کا تیل لگانے سے بال سفید بھی نہیں ہوتے اور گرنا بھی بند ہوجاتے ہیں۔
٭جوڑوں کے درد کے خاتمے کے لئے زیتون کے تیل کا استعمال نہایت موثر ہے۔
٭زیتون کے تیل میں بناکھانا کھانے سے بیما ریاں آپ کے قریب بھی نہیں آسکتیں۔
٭زیتون کا استعمال پیٹ کے امراض کے لئے سب سے زیادہ مفید ہے۔
٭زیتون کا ستعمال پٹھوں کو مضبوطی عطا کرتا ہے۔



اب گھر بیٹھے پائیں خربصورت اور چمکدار جلد

Image result for after before whitening face


آجکل ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف نظر آئے پرکشش اور خوبصورت بننے کے لئے لوگ طرح طرح کی کریمیں اور ادویات استعمال کر تے ہیں۔اچھی اور پر کشش جلد پانا ہر ایک کی خواہش ہے ، اچھی شخصیت سے نا صرف آپ پر اعتماد نظرآتے ہیں بلکہ لوگ بھی آپ کو بیحد پسند کرتے ہیں۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ گھر میں موجود اشیاءسے بیحد آسان اور بہترین ماسک تیار کر سکتے ہیں جن سے آپ کی جلد میں ایک انوکھا نکھار آسکتا ہے اور آپ بیحد پرکشش اور حسین جلد کے مالک بن سکتے ہیں۔
ڈبل روٹی ہر گھر میں استعمال کی جاتی ہے، اس سے اب بہت سے فائدے اٹھا سکتے ہیں جیسے کہ اس سے چہرے کا ایک ماسک بنا کر آپ اپنی جلد کو 
بیحد تروتازہ اور پر کشش بنا سکتے ہیں ۔

   چمکدارجلد

 ڈبل روٹی کے چورے کو ملائی میں ملا کر دو منٹ کے لئے رکھنا ہے تاکہ چورا تھوڑا نرم ہو جائے ، اب اس مکسچر کو چہرے پر آہستہ آہستہ چہرے پر لگائیں اور ملیں ، پندرہ منٹ چہرے پر لگے رکھنے کے بعد دھو لیں ، آپ 
دیکھ کر حیران رہ جائیں کے کہ آپ کے جلد منٹوں میں چمکدار ہو جائے گی۔

رنگت میں نکھار 

1

بادام کا ماسک تیار کرنے کے لئے تین سے چار بادام لیں یا مقدار اتنی رکھیں جتنا آپ نے استعمال کرنا ہے۔ ان باداموں کو دودھ میں بھگو کر رکھیں ، اس کے بعدرات میں ان باداموں کو دودھ سمیت پیس لیں اور ایک اچھا گاڑھا پیسٹ بنا لیں اور چہرے پر لگا کر سو جائیں یہ ماسک پوری رات آپ کے چہرے پر لگا رہے گا اس کے بعد آپ صبح اٹھ کے نارمل پانی سے چہرہ دھولیں اس ماسک کی مدد سے آپ اپنی رنگت میں نمایاں تبدیلی محسوس کریں کے ۔

2

بیسن کا ماسک بنانے کے لئے ایک کھانے کا چمچ بیسن لیں اس میں ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس شامل کریں ، اسی طرح ایک چمچ ہلدی شامل کریں ان تمام اجزاءکو ایک پیالی میں ملائیں اور تھوڑا سا عرق گلاب شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں ، اس پیسٹ کو چہرے پر لگائیں اور اس وقت تک لگا رہنے دیں چب تک یہ خشک نہ ہو جائے۔ پر تقریبا پندرہ منٹ بعد آپ چہرہ دھو لیں یہ ماسک آپ ہر قسم کی جلد پر استعمال کر سکتے ہیں۔

جھلسی ہوئی جلد کے لئے

کھیرے کا ماسک بنانے کے لئے آپ کھیرے کا جوس لیں تقریبا ایک کھانے کے چمچ کے برابر اس کے بعد اسمیں لیموں کا رس شامل کریں تقریبا ایک چائے کی چمچ کے برابر اور میں ایک چائے کی چمچ ہلدی شامل کریں اور ایک چائے کی چمچ گلسرین (گلسرین کا استعمال اس صورت میں کریں اگر آپ کی جلد خشک ہے) یہ ماسک پانی کی طرح ہوگا اس لئے اسے روئی کی مدد سے چہرے پر لگائیں ، اس ماسک کو آپ آنکھوں کے گرد بھی با آسانی استعمال کر سکتے ہیں۔ پندرہ منٹ اس ماسک کو لگا رہنے دیں پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ اس ماسک کو لگا تار ایک ہفتہ استعمال کریں اس کے بعد آپ اپنی جلد کو بیحد خوبصورت اور چمکدار محسوس کریں گے۔ یہ ماسک 
جھلسی ہوئی جلد کے لئے بھی بہت کار آمد ہے۔









ہلدی کے ایسے فائد ے جن سے آپ بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں


Related image

ہلدی کھانوں میں استعمال ہونے والا بہت اہم مصالحہ ہے جوتقریباََ ہر باورچی خانے میں موجود ہوتا ہے۔۔ یہ دراصل ایک پودے کی جڑ ہے جس کا پھول زرد ہوتا ہے۔
اس پودے کی جڑ کے پاس سے بہت سی شاخیں نکلتی ہیں ہرشاخ پرکیلے کے پتوں کی طرح پتے لگتے ہیں مگران سے چھوٹے ہوتے ہیں جب جڑجھودکرہلدی حاصل کی جاتی ہے۔ ہرشخص جانتاہے کہ ہلدی مسالے کاایک جزہے اور کھانوں میں شامل کرنے سے نہ صرف غذاخوش نما ہوجاتی ہے بلکہ غذاؤ ں کابادی پن بھی ختم ہوجاتاہے۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ جڑکئی امراض میں بہترین دوا ہے۔

سرچکرانا

اکثر اوقات سرچکرانے اور آنکھوں کے آگے اندھیرا آنے کی شکایت لاحق ہوجاتی ہے۔ اس کیلئے ہلدی پیس کراس میں پانی ملاکرسراور پیشانی پرلیپ کرنے سے فائدہ ہوتاہے۔

منہ سے خون، بخار 

منہ سے خون آنے اور بخارکی شکایت میں ہلدی فائدے مند ہے۔ اس پیس کرایک گرام کی مقدارمیں لے کر مکھن یادودھ کے ہمراہ کھایاجاتاہے اور روزانہ اس مقدارمیں ایک ایک گرام اضافہ کیاجاتاہے۔ یہاں تک کہ اس کی مقدار12گرام تک پہنچ جائے تو ان شکایات میں آرام آجاتاہے۔

کھانسی 

کھانسی کی شکایت میں ہلدی کا استعمال کیاجاتاہے۔ اگرکھانسی کے ساتھ بلغم بھی آتاہوتوہلدی کو آگ میں بھون کر باریک پیس لیں اور ایک گرام کی مقدارمیں نیم گرم پانی سے کھائیں بلغم کھانسی چند دنوں میں دورہوجائے گی۔

بخاراورنزلہ 

بعض اوقات بخاراور نزلے کی کیفیت کئی کئی دن چلتی رہتی ہیں شکایت کے لئے نیم گرم دودھ میں ہلدی اور کالی مرچ باریک پیس کریہ سفوف دودھ میں ملاکر پینے سے بخارختم ہوجاتاہے اور نزلے کی شکایت بھی جاتی رہتی ہے۔

پیٹ کے کیڑے 

ہلدی کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہوجاتے ہیں اس کے لئے ہلدی کوپانی میں جوش دے کر پلایا جاتا ہے یا پھر اس کا سفوف بناکرنیم گرم پانی سے استعمال کرایا جاتاہے اس کے استعمال سے کیڑے حاجت میں خارج ہوجاتے ہیں۔

جگرکے امراض 

جگرکے امراض میں ہلدی کودہی کے ساتھ استعمال کرایاجاتاہے۔ یرقان کی شکایت میں ہلدی کاسفوف بارہ گرام کی مقدار میں لے کردہی کے ساتھ پلانے سے بہت جلدی آفاقہ ہوتاہے۔

چوٹ اور سوجن

چوٹ اندرونی ہویابیرونی دونوں صورتوں میں ہلدی فائدہ پہنچاتی ہے۔ پسی ہوئی ہلدی ایک گرام کی مقدارمیں دودھ کے ساتھ استعمال کرائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہلدی اور چونابرابر وزن پیس کرچوٹ کی جگہ پرلگائیں تودرد اور سوجن کی تکلیف بہت جلد ختم ہوجاتی ہے۔
یہ تمام علاج ہلدی کی مدد سے کئے جا سکتے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ نہایت سستا اور آزمودہ علاج ہے جو کہ گھر میں موجودایک مصالحے سے با آسانی کیا جا سکتا ہے۔