
شدید بارش کے بعد بولان کے پہاڑی سلسلوں میں سیلابی ریلے کے باعث مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے ڈیڑھ سو سے زائد ہندو یاتری پھنس گئے۔رکن بلوچستان اسمبلی دنیشن کمار کے مطابق پھنسے ہوئے ہندو یاتریوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ یاتری پہاڑی سلسلے میں پھنسے ہوئے ہیں اور موسم بہتر ہوتے ہی انہیں ریسکیو کرنے کیلئے ہیلی کاپٹرز بھیج دیے جائیں گے۔ مواصلات کا نظام نہ ہونے کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔دنیش کمار کے مطابق ہندو یاتریوں کا تعلق بلوچستان اور سندھ سے ہے، وہ 2 روز سے لاپتہ تھے جن سے آج رابطہ ہوا۔پھنسنے والے ہندو یاتری پہاڑی مقام شوران سے آگے ہری سر دیوتا مندر کی زیارت کیلئے گئے تھے، شوران کے مقام سے مندر تک اونٹوں کے ذریعے پہنچنے میں 7 گھنٹے لگتے ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے جتنا جلد ممکن ہو سکے، یاتریوں کو ریسکیو کرنے کی ہدایت کی ہے۔
No comments: