
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کہیں نہیں جارہی البتہ آصف علی زرداری جیل ضرور جائیں گے۔ جس نے دھرنا دینا ہو، اسلام آباد آجائیں ہم کنٹینر فراہم کریں گے۔جمرود اسٹیڈیم میں جسلہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ اسلام آباد ملین مارچ کیلئے آرہے ہیں حالانکہ انہوں نے گڑھی خدا بخش میں کل ہونے والے جلسے میں لوگوں کو دو دو سو روپے دے کر بلایا گیا۔عمران خان نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے جنگ کے دوران قبائلیوں نے کن مشکلات کا سامنا کیا۔ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، ان کا جو نقصان ہوا اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کو روزگار دلائیں گے، سستے قرضے دیں گے اور طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی کوشش کریں گے۔
پڑوسی ملک سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں نگراں حکومت کی بات کی تو پڑوسی ملک میں برا منایا گیا۔ افغانستان کے لوگوں کیلئے امن کی دعا کرتا ہوں، افغانستان میں نگراں حکومت سے الیکشن کرائیں۔ نیوٹرل امپائر کا نتیجہ سب مانیں گے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کا خیر خواہ اور ان کی بہتری چاہتا ہے، افغانستان میں امن آیا تو وسطی ایشیا تک تجارت بڑھے گی۔قبائلی علاقوں سے متعلق وزیراعظم نے 100 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا اور کہا کہ ان علاقوں میں پانی کی دستیابی کیلئے ڈیم بنائیں گے۔ نئے ڈیمز کی تعمیر سے 10 لاکھ لوگوں کو پانی ملے گا۔ قبائلی علاقے کیلئے واٹر سپلائی اسکیم بھی لارہے ہیں اور یہاں 12 بائی پاس بھی بنائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کیلیے سارے صوبے این ایف سی ایوارڈ سے پیکیج میں حصہ ڈالیں گے اور ان پیسوں سے تعلیمی سہولیات کے ساتھ ساتھ اسپورٹس گراؤنڈ بھی بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے مشکل ترین معاشی حالات کا سامنا کررہا ہے۔2008 میں پی پی حکومت آئی تو قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا۔ ن لیگ کے دور حکومت میں قرضہ 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔
ہم اس قرضے پر ساڑھے 6 ارب روپے یومیہ سود ادا کررہے ہیں۔ دو ہزار ارب روپے قرضوں کی قسطوں پر لگ جاتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ قرضے چکانے ہوں تو خرچے کم اور آمدنی بڑھائی جاتی ہے۔ ہم بیرون ملک سے سرمایہ کاری لے کر آرہے ہیں۔ یقین دلاتا ہوں چند ماہ میں اس مشکل مرحلے سے نکل جائیں گے
No comments: