سپریم کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کی سزا معطل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ سابق وزیراعظم کی سزا طبی بنیادوں پر معطل کرنے کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ اوپن ہارٹ سرجری کےبعد بھی نواز شریف کے دل کی شریانیں دو بار بلاک ہوئیں جبکہ انجائنا کی تکلیف کےباعث نوازشریف کواسپتال بھی منتقل کیا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی توجہ صحت کی موجودہ صورتحال پر ہے،جو باتیں آپ کر رہے ہیں وہ میڈیکل ہسٹری ہے۔ وکیل نے کہا کہ نوازشریف کی صحت آج پہلے سے زیادہ خراب ہے۔نواز شریف احتساب عدالت کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے بعد کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں ۔
نیب نے سابق وزیراعظم کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی مخالفت کررکھی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نوازشریف کی درخواست عدالت کے طے کردہ اصولوں کے مطابق نہیں۔نیب کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں قیدی کی صحت کا جائزہ 6 میڈیکل بورڈز نے لیا لیکن کسی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ نوازشریف کی جان کو خطرہ ہے ۔ سابق وزیراعظم میڈیکل ہسٹری کی بنیاد پر ضمانت لینا چاہتے ہیں۔ ہائیکورٹ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر نوازشریف کی درخواست ضمانت خارج کی تھی، سپریم کورٹ اپیل خارج کرے۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ڈاکٹر لارنس کی جانب سے میاں صاحب کے ذاتی معالج کے نام لکھا گیا خط عدالت میں جمع کرایا تھا۔ خط میں نوازشریف کی سال 2003 سے 2019 تک کی میڈیکل ہسٹری شامل ہے۔قوی امکان ہے عدالت فریقین کو سننے کے بعد آج مختصر حکم سنا دے گی۔اس سے قبل نواز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں بھی اسی نوعیت کی دخواست دائر کی تھی جسے دو رکنی بینچ کی جانب سے مسترد کردیا گیا تھا۔
No comments: