
بلاول بھٹو زرداری وفاقی حکومت کے خلاف ٹرین مارچ آج سے شروع ہوگا۔ قافلہ صبح گیارہ بجے کراچی سے لاڑکانہ کیلئے روانہ ہوگا۔ بلاول اور پارٹی رہنما پرجوش خطابات سے جیالوں کا لہو گرمائیں گے۔جیالوں کی کینٹ اسٹیشن آمد کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے کینٹ اسٹیشن پر استقبالی کیمپ لگا دیا گیا ہے، جہاں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اسٹیشن کا دورہ کیا اور ٹرین مارچ سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا۔ کاروان بھٹو کے نام سے اس ٹرین مارچ میں شامل پی پی چیئرمین 25 مقامات پر خطاب کریں گے۔جیالوں کی کینٹ اسٹیشن آمد کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے کینٹ اسٹیشن پر استقبالی کیمپ لگا دیا گیا ہے، جہاں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اسٹیشن کا دورہ کیا اور ٹرین مارچ سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا۔ کاروان بھٹو کے نام سے اس ٹرین مارچ میں شامل پی پی چیئرمین 25 مقامات پر خطاب کریں گے۔
ٹرین قائد آباد، دھابیجی، کوٹری، حیدرآباد، ٹنڈو آدم، شہداد پور سے ہوتی ہوئی نواب شاہ پہنچے گی۔ رات بھر نواب شاہ میں قیام کے بعد 27 مارچ کو ٹرین دوبارہ چل پڑے گی، جس کے بعد باندھی، پڈعیدن، محراب پور، رانی پور، گمبٹ، خیر پور اور سکھر اسٹیشن جائے گی۔ریلوے حکام کے مطابق خصوصی ٹرین میں ایک سیلون، ایک ائرکنڈیشن سلیپر اور اکانومی کلاس کی آٹھ بوگیاں شامل ہیں، جب کہ سیکیورٹی کے لئے ریلوے پولیس اور سندھ پولیس کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اس کے علاوہ بلاول بھٹو کی سیکورٹی کے لئے اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے افسران و اہلکار بھی ہوں گے۔پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول بھٹو کی سربراہی میں پرجوش خطابات سے کارکنوں کا لہو گرمائیں گے۔ رات سکھر میں گزار کر 28 مارچ کی صبح ٹرین پھر روانہ ہوگی اور شکار پور، جیکب آباد، حبیب کوٹ، مڈیجی سے ہوتی ہوئی رات تک لاڑکانہ پہنچے گی۔
No comments: