Select Menu

اہم خبریں

clean-5

بین الاقوامی

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

ٹیکنالو جی

دلچسپ و عجیب

کھیل

Misc

Technology

» » » چین کی طرح ہمیں بھی اپنے مغربی علاقوں کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے , وزیراعظم عمران خان


Image result for imran khan

وزیراعظم عمران خان کہے ہیں کہ ہم اگلے انتخابات جیتنے کیلئے نہیں بلکہ ملکی ترقی کی سوچ  کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ماضی کی حکومتوں نے ملک کو تباہی کے راستے پر چلایا اور قرضوں میں جکڑ دیا۔کوئٹہ میں پاک فوج اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے امراضِ دل کے اسپتال اور کوئٹہ سے ژوب تک شاہراہ کی توسیع کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال صوبے کے عوام کا درد رکھتے ہیں، بلوچستان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں جام کمال جیسا وزیراعلیٰ ایسے وقت میں ملا جب پورے ملک میں تبدیلی کی سوچ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ماضی میں جس طرز پر چلایا گیا اسکی وجہ سے ملک تباہی کی جانب جا رہا تھا، ملک کو کنگال کر دیا گیا جبکہ قرضوں کی مد میں ہم روزانہ 6 ارب روپے دے رہے ہیں۔ ریاست کا کام عوام کو تحفظ، تعلیم، صحت، پانی اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات دینا ہوتی ہے۔ ملکوں کو تباہ کرنے کیلئے اسے مقروض اور اس کی اشرافیہ کو خریدا جاتا ہے، اس طرح سے سہولیات تک رسائی صرف اشرفیہ کو ہوتی ہے اور عام شہری بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاست صرف انتخابات جیتنے کیلئے کی جاتی ہے اور اس دوڑ میں بلوچستان پیچھے رہ جاتا ہے کیونکہ اس کی مجموعی نشستیں صرف پنجاب کے فیصل آباد ڈویژن سے بھی کم ہیں۔ جو لوگ طاقت  کے حصول کیلئے سیاست کرتے ہیں وہ بلوچستان کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، اس لیے  پچھلے حکمرانوں نے بلوچستان سے پانچ گنا زیادہ دورے لندن کے کیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مرکز سے قومی مالیاتی کمیشن کے تحت جو پیسہ ملا وہ نچلی سطح پر خرچ نہیں ہوا اور ایک چھوٹا سا طبقہ امیر ہوگیا، کوئٹہ میں متحدہ عرب امارات اور پاک فوج کے تعاون سے امراضِ قلب کے اسپتال کی تعمیر سے بلوچستان کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے اسپتال کی تعمیر کیلئے کوششوں پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، فوج اور بلوچستان حکومت کے ساتھ ملکر اس اسپتال کے ساتھ ہی کینسر اسپتال بھی تعمیر کرے گی۔ امراضِ دل اور کینسر کے اسپتال کی تعمیر کے بعد بلوچستان کے لوگوں کو پنجاب اور دوسرے صوبے نہیں جانا پڑے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کے تحت کوئٹہ سے ژوب تک شاہراہ کی تعمیر سے بڑی تبدیلی آئے گی کیونکہ 305 کلومیٹر اس شاہراہ کی بدولت بلوچستان، خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے پسماندہ  علاقے پورے پاکستان سے جڑیں گے۔ یہاں صنعتی مرکز بھی بنیں گے اور بلوچستان کے معدنی وسائل کو بھی استعمال میں لایا جاسکے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم کوئٹہ سے تفتان تک ریلوے لائن کے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں، سی پیک کے مغربی روٹ کو بہت پہلے بنانے کی ضرورت تھی، چین کی طرح ہمیں بھی اپنے مغربی علاقوں کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔بلوچستان کے دار الحکومت کا ماسٹر پلان بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کوئٹہ پھیلتا جا رہا ہے مگر بنیادی سہولیات کی کمی ہے جبکہ بڑے شہروں کو مزید پھیلانے سے پہلے ماسٹر پلان بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اسلام آباد، لاہور اور پشاور کا ماسٹر پلان بنا رہے ہیں کیونکہ اس کے بغیر لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کے ذہنوں میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ یہاں کی نوکریاں باہر سے آنے والے لوگ لے جائیں گے، اس لیے ہم بلوچستان کے لوگوں کو ہنر مند بنانے کیلئے تکنیکی تعلیم کے ادارے بنا رہے ہیں، یہ ادارے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہونے چاہیئے۔عمران خان نے بلوچستان حکومت کو تجویز دی کہ صوبے میں ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے مضبوط بلدیاتی نظام تشکیل دیا جائے، موجودہ نظام لوگوں کو سہولیات فراہم نہیں کرسکتا۔ بلوچستان بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے، یہاں انتظامی  بہتری اور فنڈز کے درست استعمال کیلئے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی نچلی سطح پر فنڈز خرچ کرکے لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ہماری سوچ بلوچستان کی ترقی ہے، پی ٹی آئی حکومت یہ فیصلہ کرکے آئی ہے کہ ہم نے اگلے انتخابات کا نہیں سوچنا بلکہ پاکستان کو ترقی دینا ہے۔ ہم نے یہ نہیں سوچنا کہ اگلے انتخابات جیتنے کیلئے کونسا فلیگ شپ منصوبہ بنائیں یا کونسا فیتا کاٹے، ہم پورے ملک کی مجموعی ترقی چاہتے ہیں۔


رائے غلام عباس کھرل Shakoor

رائے غلام عباس کھرل کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور کسووال پریس کلب رجسٹرڈ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments: