ماضی قریب کی سیاست میں والدہ کا ’عمل دخل‘ ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار لائے تھے۔ جب بھی وہ سیاست ناراض ہوکر گھر بیٹھ جاتے، ان کی والدہ دوبارہ مناکر عوام کی خدمت کے لیے آمادہ کرتی تھیں اور ایک مرتبہ ان کی والدہ پریس کانفرنس کے دوران بھی ان کے ساتھ بیٹھی رہیں۔اب تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی عالمی یوم خواتین کے موقع پر اپنی والدہ کے کہنے پر اہم فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان کو نیب نے نندی پور پاور پروجیکٹ میں ہونے والی مبینہ کرپشن کیس میں نامزد کیا ہے جبکہ بابر اعوان نے اس اس کیس سے بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی مگر جمعہ 8 مارچ کو انہوں نے اس درخواست پر فیصلہ ہونے سے کچھ دیر قبل اپنی درخواست واپس لے لی۔
عدالت نے ڈاکٹر بابر اعوان کی جانب سے دائر نئی درخواست قبول کرتے ہوئے ان کی بریت کی درخواست خارج کردی اور اس کیس میں بابر اعوان، راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان پر 11 مارچ کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران جب صحافیوں نے درخواست بریت واپس لینے کی وجہ پوچھی۔ جس پر ڈاکٹر بابر اعوان نے بتایا کہ میں آج صبح سویرے اپنی اماں جی کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا قانون ہے۔ اس کی بالادستی ہم تسلیم کرتے ہیں تم وکیل ہو۔ قانونی طریقہ کار کے مطابق چلو۔ اس لئے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر والدہ کی فرمائش پوری کردی ہے۔
No comments: