وزیراعظم عمران خان نے ملک میں غربت کے خاتمے کےلیے جامع پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غریبوں کی فلاح کےلیے مزید 80 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔اسلام آباد میں غربت کے خاتمے کے پروگرام ’’احساس اور کفالت‘‘ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے غربت ختم کرنے کےلیے جہاد شروع کیا ہے اور مدینے کی ریاست ہمیشہ میرے لیے ایک ماڈل رہے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت غریبوں کی فلاح کےلیے مزید 80 ارب روپے خرچ کریں گے، تعلیم کےلیے گرانٹس فراہم کی جائیں گی اور قانونی معاونت بھی لوگوں کو دی جائے گی جبکہ پیسے کے ساتھ زندگی بہتر بنانے کے مواقع فراہم کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ خواتین کو فراہم کی جانے والی رقم میں اضافہ کر رہے ہیں، خواتین کو موبائل فونز بھی دیے جائیں گے جبکہ 57 لاکھ خواتین کے سیونگ اکاؤنٹس بنائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ سروے کے ذریعے لوگوں کے حالاتِ زندگی معلوم کریں گے اور ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دسمبر 2019 تک غربت کے خاتمے کےلیے ڈیٹا جمع کرلیں گے، سوشل پروٹیکشن اور غربت کے خاتمے کےلیے نئی وزارت بنا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ماؤں اور بچوں کو ٹھیک غذا نہیں ملتی، پنجاب میں 75 فیصد کھلا دودھ پینے کے قابل نہیں اور اس حوالے سے معیاری دودھ کی فراہمی کےلیے اقدامات کریں گے، گاؤں میں خواتین کو بکریاں اور دیسی مرغیاں فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی آمدنی بڑھانے کےلیے دنیا بھر میں یہ طریقہ رائج ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ این جی اوز کے ساتھ مل کر لوگوں کی مدد کریں گے اور غربت کے خاتمے کےلیے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شیلٹر ہومز پر حکومت کا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہو رہا، مخیر حضرات خود لوگوں کو کھانا فراہم کر رہے ہیں۔
غربت کے خاتمے کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین نے غربت کے خاتمے کےلیے پالیسیاں بنائیں اور 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ عمران خان نے کہا کہ شوکت خانم جب شروع کیا تو بینک میں ایک کروڑ روپے تھے جبکہ اسپتال 70 کروڑ میں بننا تھا لیکن کام ایک دن بھی نہیں رکا۔وزیراعظم نے کہا کہ روزگار کےلیے بیرون ملک جانے والوں کو آسانیاں فراہم کریں گے اور کوشش کریں گے مزدوروں کو تین سال کا کنٹریکٹ ملے۔ انہوں نے کہا کہ پینشن سب سے پہلے خلافت راشدہ میں شروع کی گئی اور اس حوالے سے ای او بی آئی کی پنشن میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے 5 ارب مختص کر دیے ہیں، بیت المال معمر افراد کےلیے گھر بنائے گا اور اس کےلیے بلاسود قرضے فراہم کریں گے جبکہ 3ارب روپے پسماندہ اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کےلیے دیں گے۔ انہوں نے کہا چھوٹے کسان سبسڈی سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے، اس لیے چھوٹے کسانوں کی مدد کی پوری کوشش کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے غربت مٹاؤ پروگرام کے مختلف وعدوں سے قبل کہا کہ ہمارے نبیﷺ دنیا کے کامیاب ترین شخص تھے اور ہر کامیاب شخص کی زندگی سے لوگ سیکھنا چاہتے ہیں، دنیا میں ہر شخص کا کوئی رول ماڈل ہوتا ہے، نبیﷺ نے اللہ کے احکامات کے مطابق مدینہ کی ریاست تشکیل دی-وزیراعظم نے غربت مٹاؤ پروگرام سے متعلق دستاویز تیار کرنے پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کیا
No comments: