ملک میں توانائی بحران کے حل کی بڑی امید تھر کول پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار شروع کردی گئی، ابتدائی طور پر 330 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگئی۔اینگرو پاور تھر لمیٹڈ کے ذریعے تھر کے کوئلے سے 330 میگاواٹ کے پاور پلانٹ سے نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی شروع کردی گئی، بجلی پیدا کرنے کے لئے تھر کول بلاک ٹو میں پاور پلانٹ لگایا گیا تھا جس سے 660 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔
تھر میں 1988ء میں کوئلہ دریافت ہوا تھا، تھر میں دنیا کی ساتویں بڑی کوئلے کی کان موجود ہے ۔نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی کے تاریخی موقع پر تھر کول اتھارٹی کے ملازمین نے اہم کامیابی پر جشن منایا۔اینگرو پاور تھر لمیٹڈ سالانہ 3.8 میگا ٹن کوئلہ استعمال کرے گی جو اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔اینگرو انرجی نے کوئلے کی مائننگ اور بجلی کی پیداوار سے سالانہ 1.6 ارب ڈالر کے زرمبادلہ بچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس کامیابی پر ٹوئٹر پر پیغام لکھا کہ ’’پاکستان کیلئے آج تاریخی دن ہے، سندھ پاکستان کو توانائی، سیکیورٹی کی راہ پر لے کر جارہا ہے جس میں چھوٹا سا کردار ادا کرنے پر اللہ کا شکر گزار ہوں‘‘۔
یاد رہے کہ یہ منصوبہ سندھ حکومت اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے سال 2011 مں شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ماحولیاتی تحفظ کیلئے بھی غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں، پاور پلانٹ سے دھویں کے اخراج کیلئے 180 میٹر بلند چمنی تعمیر کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق تھر میں دریافت ہونے والا 20 سے 30 میٹر کثافتی کوئلہ پاکستان کی صدیوں کی ضررویات کیلئے کافی ہے، ایک وقت میں اس سے 4 روپے فی یونٹ بجلی کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سی ضروریات بآسانی پوری کی جاسکتی ہیں جبکہ کوئلے سے زمین کے اندر، گیس، ڈیزل اور پیٹرول کا متبادل بھی تیار کیا جاسکتا ہے
No comments: