فیصل آباد میں کل دوپہر (8 فروری) کو لاپتہ ہونے والی سات سالہ بچی کی لاش رات 2 بجے قریبی فیکٹری سے مل گئی۔ تھانہ ڈی ٹائپ کالونی کی رہائشی بچی کو والدین نے دودھ لینے بھیجا تھا جس کے بعد وہ گھر واپس نہیں آئی۔
فیکٹری ایریا میں رہائش ہونے کے باعث بیرونی دروازے پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ بچی دودھ کی دکان کی جانب گئی لیکن واپس آتے ہوئے اسے نہیں دیکھا گیا۔والدین کی جانب سے شک کے اظہار پر پولیس نے تفتیش کی تو دودھ کی دکان پر ملازم لڑکے کی گھبراہٹ دیکھتے ہوئے اسے حراست میں لیکر تفتیش کی گئی۔
ملزم سلیم نے پولیس کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پکڑے جانے کے ڈر سے بچی کو ماردیا، وہ دکان پر دودھ لینے آئی تھی جہاں سے میں اسے قریبی فیکٹری لے گیا۔ اس نے شور مچایا کہ میں اپنی امی کو بتاؤں گی جس پر پکڑے جانے کے ڈر سے میں نے اس کا گلا دبا کرمارڈالا۔پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق مانسہرہ ہے۔
پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں دوملزمان سلیم اور زاہد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ ملزم زاہد سلیم کا دوست ہے جس نے زیادتی کے بعد بچی کی لاش چھپانے میں سلیم کی مدد کی تھی۔بچی کی لاش الائیڈ اسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔صدمے سے نڈھال مقتول بچی کے والدین نےکا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو سرعام سزا دی جائے ۔ بچی کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری بچی یہاں ہنستی کھیلتی تھی، ہمارا کوئی بیٹا نہیں لیکن وہ میرے لیے بیٹوں جیسی تھی۔ ہمارا توگھرہی اجڑگیا۔
No comments: