
کراچی کے علاقے سلطان آباد کی رہائشی خاتون نے گھریلو حالات سے تنگ کر اپنی ہی گود اجاڑ ڈالی۔
پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے کلفٹن میں دو دریا کے مقام پر ماں نے اپنے ہاتھوں سے ڈھائی سالہ بیٹی انعم کو پانی میں ڈوبو کر اس کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ واقعہ ڈیفنس فیز 8 میں فرحان شہید پارک کے قریب گزشتہ روز پیش آیا، جب کہ بچی کی لاش دوسرے روز منگل کو برآمد کی گئی۔
ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق پولیس موبائل پیر کے روز معمول کے گشت پر تھی کہ انہیں دریا کے کنارے مختصر ہجوم اور ایک خاتون پانی میں کھڑی دکھائی دیں۔
قریب جانے پر ہجوم سے پتا چلا کہ خاتون نے اپنی بچی کو مار کر پانی میں ڈبو دیا ہے۔ لوگوں کی نشاندہی پر 28 خاتون کو حراست میں لیا گیا اور بچی کی تلاش شروع ہوئی۔ اس موقع پر خاتون نے ابتدائی بیان قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ وہ سلطان آباد کی رہائشی ہیں۔
پولیس نے خاتون کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزمہ کو گرفتار کرلیا، جسے ریمانڈ پر آج عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے گھر سے نکال دیا تھا، جس کے بعد اس نے والدین کے گھر پناہ لینی چاہی تاہم ماں باپ نے بھی انکار کردیا۔ جس کی وجہ سے وہ دربدر بھٹکنے پر مجبور ہوئی اور اسے اپنا اور بیٹی کا مستقبل تاریک لگا تو حالات سے مجبور ہو کر اس نے یہ قدم اٹھایا۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی مرنا چاہتی تھی۔ ملزمہ کا شوہر کراچی کے نجی اسپتال میں ملازم ہے۔
No comments: