چھ دن اسپتال میں گذارنے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کو دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بڑی تعداد آج جمعرات کی صبح سے ہی سروسز اسپتال کے باہر موجود تھے ۔نواز شریف کی طبی رپورٹ کی روشنی میں اور اسپتال کے ڈاکٹروں کی سفارش پر محکمہ داخلہ نے ان دوبارہ جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔سروسز اسپتال میں سابق وزیراعظم کا معمول کا چیک اپ کیا گیا لیکن پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہرین امراض قلب ان کا معائنہ نہ کرسکے ۔آج صبح جب مریم نواز ملاقات کے لئے اسپتال پہنچیں تو ساتھ نواز شریف کی والدہ بھی تھیں جو بیٹوں کے لئے دعائیں کرتی رہیں ۔
مریم نواز نے ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا ۔ کارکن مسلسل میاں صاحب کی صحت سے متعلق سوال کرتے رہے ۔مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما جاوید ہاشمی بھی ملاقات کے لئے آئے مگر جیل حکام نے ملنے کی کی اجازت نہیں دی ۔
No comments: