
سردی نے ملک بھر میں اپنا رنگ خوب جما رکھا ہے۔ مری میں ایک ہفتے بعد برفباری دوبارہ شروع ہوگئی، گلیات میں بھی بلند پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی۔ لواری ٹنل کو ٹریفک کےلئے بند کردیا گیا جبکہ کالام، کاغان اور شوگران میں بھی ہرسوسفیدی چھائی ہے۔ لاہور کے بعض علاقوں میں بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی ہوئی۔ کوئٹہ میں ہلکی برفباری ہوئی تو کراچی میں بھی ٹھنڈی ہواؤں کا راج ہوگیا۔ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش نے جاتی سردی کو بریک لگا دی، مختلف علاقوں میں موسم سرد اورخشک رہے گا جبکہ بالائی پنجاب کے کہیں کہیں علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن، ہزارہ ڈویژن اورکشمیر میں اکثر مقامات پر بارش کا امکان ہے جبکہ مالاکنڈ، فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال ، بہاولپور ڈویژن اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔کراچی میں یخ بستہ ہوائیں چلنے سے موسم خوب سرد ہوگیا۔ شہر میں ہرجانب ہی ٹھنڈ نے ڈیرے جمارکھے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے دوروزتک یخ بستہ ہوائیں چلنےکاسلسلہ جاری رہے گا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی ہوئی جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا جبکہ آج دن میں بھی ہلکی بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز تک لاہور میں مزید ہلکی بارش کی نوید سنادی ہے ۔مری اورگردونواح میں دو روز سے برفباری کاسلسلہ وقفے وقفےسے جاری ہے، طوفانی ہوائیں چلنے سے سردی کی شدت میں مزیداضافہ ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مری کا موجودہ درجہ حرارت منفی تین ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہلکی برفباری کاسلسلہ آئندہ24گھنٹےتک جاری رہنے کا امکان ہے۔ایبٹ آباد اورگردونواح میں بارش اورپہاڑوں پر برفباری سے سردی کی شدت مزیدبڑھ گئی۔ نتھیا گلی ، ایوبیہ ، ڈونگا گلی اورٹھنڈیانی میں ڈیڑھ فٹ تک برف ریکارڈکی گئی ۔
برف باری کے باعث مری اورٹھنڈیانی کو ملانے والی سڑکیں تاحال بند ہیں جس سے گلیات اورگردونواح میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت سامنے آ رہی ہے۔
آزادکشمیر میں بارش اور برفباری کا سلسلہ دوسرے روزبھی جاری ہے، شدید بارش اور برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔وادی نیلم وادی لیپہ کرناہ،حویلی،باغ کی اہم رابطہ سڑکیں بند ہیں جبکہ وادی نیلم میں بجلی اور ٹیلی فون کا نظام معطل ہوگیا ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بالائی خیبرپختونخوا،بالائی پنجاب،کوئٹہ، قلات ڈویژن، کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر برفباری ہوئی۔
No comments: