نیب لاہور نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں آج طلب کرلیا

لاہور : نیب لاہور نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں آج پھر طلب کرلیا ، حمزہ شہباز سے مجموعی طور پر 8 سوالات پوچھے گئے ہیں ، جن سے متعلق ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے حمزہ شہباز کو آج پھر طلب کرلیا، نیب کی ٹیم آج آمدن سےزائد اثاثوں کےکیس میں پوچھ گچھ کرےگی، حمزہ شہباز سے مجموعی طور پر 8 سوالات پوچھے گئے ہیں۔نیب کے مطابق حمزہ شہباز کو والدہ کیجانب سے فارن کرنسی کی صورت میں وصول ہونے والی فارن کرنسی کا ریکارڈ، سالانہ بنیادوں پر کی جانے والے انویسٹمنٹ کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔
نیب کا کہنا ہے حمزہ شہباز ٹیم 2006 سے 2008 تک ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کا ریکارڈ، 2005 سے2017 کے دوران اثاثہ جات میں کئی گنا اضافہ پر تفصیلات اور 2005 سے اب تک جو تحائف وصول کیئے، انکی تفصیلات فراہم کریں۔گذشتہ روز رمضان شوگر مل نالہ تعیمر کیس میں حمزہ شہباز نیب میں پیش ہوئے تھے، حمزہ شہباز سے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ایک گھنٹہ پندرہ منٹ تک تفتیش کی، نیب ٹیم نے حمزہ شہباز سے رمضان شوگر مل نالہ تعمیر کے حوالے سے سوالات کئے تھے۔نیب ٹیم نے کہا تھا یہ 21 کروڑ روپے سے نالے کی تعمیر صرف رمضان شوگر مل کے لیے کی گئی اور نالے کی تعیمر سرکاری فنڈر سے کی گئی، جس پر حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا یہ نالہ رمضان شوگر مل کے لیے نہیں بلکہ عوام کی بہتری کے لیے تعمیر کیا گیا اور اسکا ابتدائی ریفرنس عدالت میں دائر ہو چکا ہے ، آج طلبی کا کوئی جواز نہیں تھا۔
حمزہ شہباز شریف نے نالہ کی تعیمر سے متعلق کچھ دستاویزات بھی نیب ٹیم کے حوالے کیں ، نیب حکام حمزہ شہباز کے جواب کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد آئندہ کی کارروائی کا جائزہ لیا جائے گا ۔ نیب ٹیم اگر مطمیئن نہ ہوئی تو دوبارہ پھر حمزہ شہباز کو طلب کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل 12 اپریل کو زائداثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے ، حمزہ شہباز سے منی لانڈرنگ اور اثاثہ جات سےمتعلق پوچھ گچھ کی گئی، حمزہ شہباز نے کہا تھا مالی معاملات سلمان شہباز دیکھتےہیں، میں صرف سیاسی معاملات دیکھتاہوں۔خیال رہے چیئرمین نیب نے شریف خاندان کی خواتین کو جاری طلبی کے نوٹسز منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا نیب خواتین کی حرمت، چادر و چار دیواری کے تقدس پریقین رکھتاہے، خواتین کوطلبی کی بجائے سوالنامے ارسال کئے جائیں۔
