
پاک پتن میں غریب ریڑھی بان کابنایا گیا طیارہ پولیس نے پارٹس علیحدہ کرکے ٹرالی پررکھ دیا ۔ فیاض کا کہنا ہے کہ جہاز کی حوالگی کے لیے تھانے گیا لیکن کوئی تعاون نہیں کررہا ۔پاکپتن کے ہنرمند نوجوان کی دو سال کی محنت رائیگاں جانے لگی، پولیس نے تحویل میں لیے جانے والے طیارے کے پرزے اور انجن الگ الگ کر کے ٹرالی پر رکھ دیے۔فیاض کا کہنا ہے کہ مجھے میرا جہاز واپس نہیں دیا جا رہا ، جہاز کی حوالگی کے لیے تھانے گیا جہاں کسی نے مجھ سے تعاون نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فیاض کے بنائے گئے جہاز کا چیچز نمبر ہے اور نہ ہی کوئی انجن نمبر ہے، حوالگی کیسے ہوگی؟۔سماء کی جانب سے رابطہ کرنے پر ایس ایچ او تھانہ رنگ شاہ چوہدری بشیر احمد سے نے موقف دینے سے ہی انکار کردیا۔اوکاڑہ کے سماجی رہنماڈاکٹر افتخار نےفیاض کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی ، ان کا کہنا ہے کہ محمد فیاض کی حوصلہ افزائی کے لیے عدالتی جرمانہ اور طیارے پر آنے والی لاگت وہ فیاض کو دیں گے۔مڈل پاس نوجوان نےمحنت مزدوری کرکے اپنی جمع پونجی سے جہاز بنانے کا خواب تو پورا کیا۔لیکن اب تک نہ کسی حکومتی وزیر نے اس سے رابطہ کیا، نہ ہی معاملے پرکوئی داد رسی کی گئی۔
یاد رہے کہ پاکپتن سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت ریڑھی بان فیاض نے دو سال کی محنت اور اپنی تمام جمع پونجی داؤ پر لگاکر ایک جہاز بنایا اور تجرباتی پرواز کے لیے اسے سڑک پر لایا تو پولیس نے دھرلیا ۔اے ایس آئی کی مدعیت میں درج کیے جانے والے مقدمے میں پولیس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیاض نے حکومت سے اجازت لیے بغیر طیارہ بنایا اور گاؤں کے قریب اڑاتا رہا جبکہ سول ایوی ایشن کی اجازت کے بغیر اس طرح سے جہاز اڑانا غیر قانونی ہے۔ہے کہ فیاض نے حکومت سے اجازت لیے بغیر طیارہ بنایا اور گاؤں کے قریب اڑاتا رہا جبکہ سول ایوی ایشن کی اجازت کے بغیر اس طرح سے جہاز اڑانا غیر قانونی ہے۔بعد ازاں پولیس نے نوجوان کو مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں اسے تین ہزار روپے جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہا کردیا گیا۔
No comments: