کراچی :کراچی میں 2گاڑیوں پرفائرنگ کے نتیجے میں 2افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ مفتی تقی عثمانی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ،جمعے کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سوچ پھر آن ہوگیا،شہر قائد میں ایک گھنٹے کے دوران فائرنگ کے 2 واقعات میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔
فائرنگ کا پہلا واقعہ نیپا پل کے قریب پیش آیا جہاں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کراچی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔فائرنگ کا دوسرا واقعہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کراچی کی ہی گاڑی کو نشانا بنایا جس میں مفتی تقی عثمانی سوار تھے، فائرنگ کے نتیجے میں ان کا گارڈ جاں بحق ہوگیا تاہم مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے۔
ترجمان دارالعلوم کراچی کا کہنا ہے کہ نرسری والی گاڑی میں مفتی تقی عثمانی سوار تھے تاہم مفتی تقی عثمانی صاحب خیریت سے ہیں۔ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت عامر اور صنوبر خان کے نام سے ہوئی ہے جبکہ جن گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی وہ گاڑی دارالعلوم کراچی کی ہے۔
واقعہ میں نائن ایم ایم پسٹل کا استعمال کیا گیا جب کہ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پسٹل کے 9 خول برآمد ہوئے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر میں فائرنگ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کو شہر کی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے مساجد کی سیکیورٹی بھی سخت کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فائرنگ کے واقعات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایات کی ہے۔
No comments: