
پیپلز پارٹٗی کے کاروان بھٹو ٹرین مارچ کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہوگا۔ بلاول بھٹوکی قیادت میں کارواں گڑھی خدا بخش جائے گا۔کاروان بھٹو ٹرین مارچ کے استقبال کے لیے دوڑ باندھی سمیت دیگر اسٹیشنوں میں تیاریاں جاری ہیں۔ کاروان بھٹو کا خیرپور اور سکھر کے اسٹیشنز پر استقبال ہوگا۔ بلاول بھٹو دن بھر استقبالی ہجوم سے خطاب کریں گے۔قبل ازیں بلاول بھٹو کا ٹرین مارچ رات گئے نواب شاہ پہنچا۔ نواب شاہ ریلوے اسٹیشن پر بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت آمروں سے زیادہ انتقامی کارروائی کررہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کاروان بھٹو ٹرین مارچ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت رواں دواں ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا وفاقی حکومت کے خلاف ٹرین مارچ کا آغاز 26 مارچ کو دن گیارہ بجے کراچی کینٹ اسٹیشن سے ہوا۔ قافلہ صبح گیارہ بجے کراچی سے لاڑکانہ کیلئے روانہ ہوا۔ کاروان بھٹو کے نام سے اس ٹرین مارچ میں شامل پی پی چیئرمین 25 مقامات پر خطاب کریں گے۔رات بھر نواب شاہ میں قیام کے بعد آج 27 مارچ کو ٹرین دوبارہ چل پڑے گی، جس کے بعد باندھی، پڈعیدن، محراب پور، رانی پور، گمبٹ، خیر پور اور سکھر اسٹیشن جائے گی۔
ریلوے حکام کے مطابق خصوصی ٹرین میں ایک سیلون، ایک ائرکنڈیشن سلیپر اور اکانومی کلاس کی آٹھ بوگیاں شامل ہیں، جب کہ سیکیورٹی کے لئے ریلوے پولیس اور سندھ پولیس کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اس کے علاوہ بلاول بھٹو کی سیکورٹی کے لئے اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے افسران و اہلکار بھی ہوں گے- پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول بھٹو کی سربراہی میں پرجوش خطابات سے کارکنوں کا لہو گرمائیں گے۔ رات سکھر میں گزار کر 28 مارچ کی صبح ٹرین پھر روانہ ہوگی اور شکار پور، جیکب آباد، حبیب کوٹ، مڈیجی سے ہوتی ہوئی رات تک لاڑکانہ پہنچے گی۔
No comments: