
نیوزی لینڈ کی وزیرا عظم جیسنڈا آرڈرن نے ملک میں تمام خود کار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان کردیا۔ نیوزکانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ مساجد پر حملے میں خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ۔
کرائسٹ چرچ حملے میں 2 مساجد پر فائرنگ سے 50 مسلمانوں کی شہادت کے بعد نیوزی لینڈ میں خود کار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان کردیا گیا ہے۔وزیراعظم جیسینڈا آرٖڈرن نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 15 مارچ کو ہماری تاریخ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوگئی، ہم ملک کو محفوظ بنانے کیلئے اسلحہ سے متعلق قوانین کو مزید سخت کر رہے ہیں جس کے تحت فوجی طرز کی سیمی آٹومیٹک اور رائفلز پر پابندی عائد ہوجائے گی۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشتگرد حملے میں استعمال ہونے والے تمام ہتھیاروں پر مکمل پابندی ہوگی، اس حوالے سے جلد قانون سازی کیے جانے کے بعد خودکار ہتھیاروں پرفوری پابندی عائد کی جائے گی ۔اس کے جدید میگزینز سمیت علاوہ بندوقیں نیم خودکار اسلحے میں تبدیل کیے جانے والے تمام آلات پر بھی پابندی ہوگی۔رپورٹ کے مطابق اپریل کے آغاز میں ہونے والے نیوزی لینڈ پارلیمنٹ کے اجلاس میں خودکار ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق قانون سازی متعارف کرائی جائے گی، چند معاملات میں خود کار ہتھیاروں کے استعمال کی محدود اجازت دی جائے گی۔
جیسینڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ مقررہ معیاد کے بعد بھی فوجی طرز کے ہتھیار رکھنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو چار ہزار ڈالر جرمانہ اور تین سال قید کی سزا دی جائے گی، قانونی ڈرافٹ اس میں مزید جرمانوں کا جائزہ لے گا۔
یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ 15 مارچ کوبرینٹن ٹیرنٹ نامی دہشتگرد نے دو مساجد میں میں نمازجمعہ کے دوران فائرنگ کردی تھی جس سے 9 پاکستانیوں سمیت 50 افراد شہید ہوئے۔ واقعے کے وقت ٹیسٹ سیریز کے لیے نیوزی لینڈ میں موجود بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی وہیں تھے جو محفوظ رہے اور بعد ازاں تیسرا اور آخری کھیلے بغیر وطن واپس روانہ ہوگئے۔برینٹن نے واقعے کی لائیو فیس بک ویڈیو نشر کی تھی، بعد میں پولیس نے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔
No comments: