Select Menu

اہم خبریں

clean-5

بین الاقوامی

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

ٹیکنالو جی

دلچسپ و عجیب

کھیل

Misc

Technology

» » » بھارتی طیارے مار گرانے کی کارروائی میں جے ایف17تھنڈر استعمال کیا, ترجمان پاک فوج آصف غفور


Image result for asif ghafoor

ترجمان پاک فوج نے بھارتی پروپگنڈے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فروری میں ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایف16کے ذریعے بھارتی طیارہ مار گرانے کی خبریں بے بنیاد اور جھوٹ ہیں۔ بھارتی طیارے مار گرانے کی کارروائی میں جے ایف 17تھنڈر استعمال کیا گیا۔ پاکستان کے ہاتھ باندھ کر بھارت کو کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے روسی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایف 16کے ذریعے بھارتی طیارہ مار گرانے کی باتیں سراسر جھوٹی ہیں۔ ہمارے سارے طیارے فضا میں تھے، جس کی وڈیو بھی موجود ہے، بھارتی طیارے مار گرانے کی کارروائی میں جے ایف17تھنڈر استعمال کیا گیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی طیاروں نے26 فروری کو فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پے لوڈ پھینکے، پاک فوج نے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں 4اہداف کو نشانہ بنایا۔ 27فروری کو پاکستان نے عام آبادی کو نشانہ بنائے بغیر جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتیوں کو بتانا چاہتے تھے کہ ان کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ہتھیار حقیقی جنگ روکنے اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کیلئے ہیں، پاکستان کے ہاتھ باندھ کر بھارت کو کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا۔انٹرویو میں میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کیلئے اقدامات کریں گے، تاہم شرط ہے کہ بھارت بھی ایسا کرے، جوہری صلاحیت رکھنے والا کوئی عقل مند ملک اسے استعمال کرنے کی بات نہیں کرسکتا، خطے میں روس اہم ملک ہے، افغان مفاہمتی عمل میں روس کا کردار سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں تیسرے فریق کی ثالثی کا خیر مقدم کریں گے، روس کیساتھ ایوی ایشن، فضائی دفاعی نظام اور ٹینک شکن نظام پر مذاکرات جاری ہیں۔






رائے غلام عباس کھرل Shakoor

رائے غلام عباس کھرل کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور کسووال پریس کلب رجسٹرڈ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments: