پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت کو چیلنج کرتے ہیں کہ آئیں پاکستان کی فضائی حدود میں 21 منٹ رہ کر دکھائیں۔ بھارتی طیاروں کے پاکستان آنے اور جانے میں صرف 4 منٹ لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں مار گرانے کا وقت نہیں ملا۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ زمینی، فضائی اور سمندری حدود میں تمام سیف گارڈز مکمل ہیں۔ بھارت اگر کوئی حملہ کرتا تو یقیناً انہیں اسی طرح کا بھرپور جواب دیا جاتا۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی ہمیشہ شہری آبادی کو نشانہ بناتا ہے اور اس بار بھی بھارت کا مقصد فوجی نہیں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر آرمی چیک پوسٹ پر حملہ ہوتا تو باوردی فوجیوں کی شہادتیں ہوتیں۔ شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر انہیں دہشت گرد کیمپ دکھانا بھارت کا مقصد تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک ہیوی ٹیم کو مظفر آباد سیکٹر کی طرف سے بڑھتے دیکھا گیا۔ جب بھارتی طیاروں کو چیلنج کیا تو وہ پاکستانی سرحد کے اندر آچکے تھے۔ بھارتی طیارے جابہ کے مقام پر 4 بم گرا کر بھاگ گئے۔آصف غفور نے کہا کہ بیوقوف دوست سے عقلمند دشمن زیادہ بہتر ہوتا ہے مگر بدقمستی سے ہمارا پڑوسی بے وقوف اور جھوٹا بھی ہے۔ بھارتی میڈیا حملے میں 300 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کررہا ہے۔ اگر 10 لوگ بھی مارے جاتے تو یقیناً ان کا خون، میتیں اور جنازے بھی ہوتے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کہا تھا کہ سوچیں گے نہیں مگر جواب دیں گے۔ اب بھارت پاکستان کے رد عمل کیلئے تیار رہے۔ بھارت کو اس حرکت کا جواب دیا جائے اور وہ بالکل مختلف ہوگا۔ جھوٹ کا جواب سچ سے دیں گے اور بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں پر بمباری کی گئی وہاں کوئی عمارت یا آبادی تھی ہی نہیں۔ پاکستانی میڈیا کو واقعے کے مقام کا دورہ کروانا چاہتے تھے مگر فضائی سفر محفوظ نہیں۔، رات ہونے کے باعث زمینی سفر نہیں کیا مگر مقامی میڈیا وہاں پہنچ چکا ہے جس نے تصاویر اور ویڈیوز نشر کی ہیں۔
No comments: