
کراچی میں گزشتہ روز دودھ کے کاروبار سے وابستہ ایک گروپ نے اچانک قیمت میں اضافے کا اعلان کردیا جبکہ دوسرے گروپ نے پرانی قیمت پر دودھ کی فراہمی جاری رکھی۔انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری قیمت 94 روپے فی لیٹر ہے۔ اس سے مہنگا دودھ مت خریدیں۔دوسری جانب صورت حال یہ ہے کہ پورے کراچی کو محض دو بڑے گروپ دودھ سپلائی کر رہے ہیں جن میں شاکر گجر گروپ اور حاجی اختر گروپس شامل ہیں۔ شاہد گجر گروپ نے دودھ مہنگا کردیا حاجی اختر گروپ نے قیمت نہیں بڑھائی۔کراچی میں مجموعی 29 کیٹل کالونیز ہیں جن میں بھینس کالونی، سپرہائی وے، ملیر، لانڈھی، ملت کالونی، مواچھ گوٹھ، سرجانی اور بلال کالونی میں آٹھ لاکھ سے زائد بھینسیں ہیں جو یومیہ 45 لاکھ لیٹر دودھ فراہم کرتی ہیں۔ دونوں گروپس شہر کے 50،50 فیصد حصے پر دودھ سپلائی کرتی ہے۔اب کراچی کے 50 فیصد علاقے میں دودھ پرانی قیمت پر مل رہا ہے جبکہ دوسرے علاقوں میں دکانداروں کو شاکر گجر گروپ نے مہنگا دودھ سپلائی کردیا ہے۔ دکاندار اس خوف میں مبتلا ہیں کہ مہنگا دودھ بیچیں تو کہیں جرمانہ نہ ہوجائے۔
No comments: