
بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں نامعلوم مسلح افراد نے 14 افراد کو بس سے اتار کر فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔لیویز حکام کے مطابق واقعہ مکران کوسٹل ہائی وے پر بزی پاس کے مقام پر پیش آیا، جہاں تمام افراد کو مسافر بس سے اتار کر قتل کیا گیا۔تقریبا 20 مسلح افراد نے کراچی اور گوادر کے درمیان چلائی جانے والی 5 مسافر بسوں کو روکا اور شناخت کے بعد 14 افراد کو قتل کر دیا، جبکہ دو مسافروں نے بھاگ کر جان بچائی۔واقعے میں قتل ہونے والے افراد کی لاشیں شناخت کےلیے نیوی اسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ شناخت ہونے والی لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کر دیا گیا۔اورماڑہ سے بزی پاس کا فاصلہ تقریبا 75 کلومیٹر ہے جو کہ ہنگول نیشنل پارک کے قریب واقع ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ ملک کو بدنام کرنے اور بلوچستان کی ترقی کو روکنے کی گھناؤنی سازش ہے، بزدل دہشت گردوں نے بے گناہ نہتے مسافروں کو قتل کرکے بربریت کی انتہا کی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امن کے دشمن اپنے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں، بلوچستان کے عوام بیرونی عناصر کے ایجنڈہ پر عمل پیرا دہشت گردوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جام کمال نے کہا کہ ترقی اور امن کا سفر ہر صورت جاری رہے گا، صوبے کے عوام کی تائید و حمایت سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل جاری رہے گا۔وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ملزمان کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
No comments: