کراچی میں ایک بار پھر مبینہ طور پر اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ناظم آباد اور گلشن اقبال سے دوشہریوں کواغوا کیا گیا تاوان وصولی کے بعد ایک شہری کو رہا کردیا جبکہ دوسرے کو ایک لاکھ روپے دینے کے باوجود گرفتار کرلیا گیا۔
کراچی میں شہریوں کے اغوا میں پولیس کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کاانکشاف ہوا ہے ، 27 فروری کو کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے ایک شہری کو اغوا کرکے چار لاکھ روپے تاوان مانگاگیا شہری نے اپنے بھائی کو فون کرکے پیسے اکھٹاکرنے کاکہا بیٹے کے اغوا پر ماں بھی دہائیاں دیتی رہی 15 روز بعد اہلخانہ سے 4لاکھ روپے تاوان لیکر اس کو رہا کردیا گیا۔
اسی طرح ایک اورشہری کو ناظم آباد سے اغوا کیا گیا، اغوا کار نے لڑکے کے بھائی کو فون پر ایک لاکھ روپے تاوان کے بدلے رہائی کایقین دلایا۔ایک لاکھ روپے وصول کرکے لڑکے کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتارکرکے مقدمہ درج کرلیا گیا تاہم کراچی پولیس چیف نے سماء کی خبر کی تصدیق کی کہا ایکشن لیں گے۔کراچی پولیس چیف امیرشیخ نے کہا کہ شہر میں اغوا کی وارداتوں میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا معاملہ اُن کے علم میں ہے، پولیس اہلکاروں کاجرائم میں ملوث ہونابرداشت نہیں،اس کی تحقیقات جاری ہیں، ایس ایس پی ملیر تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایک طرف کراچی پولیس چیف کالی وردی پر شہریوں کا اعتماد بڑھا رہے ہیں تو دوسری طرف اہلکاروں کے یہ کرتوت محکمے پر سوالیہ نشان لگارہے ہیں۔
No comments: