
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کرنیوالے دہشت گرد برنٹن ٹیرینٹ کے اہل خانہ کا بھی بیان سامنے آگیا، شہداء اور زخمی افراد کے لواحقین سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہم ٹوٹ چکے ہیں۔غیر ملکی رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی پولیس نے نیو ساؤتھ ویلز میں سینڈی بیچ اور لارنس کے علاقوں میں چھاپے مار کر 2 گھروں کی تلاشی لی، ایک گھر کرائسٹ چرچ مساجد پر حملے کرنیوالے دہشت گرد برنٹن ٹیرینٹ کی بہن کا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ برنٹن ٹیرینٹ کے اہل خانہ تحقیقات میں تعاون کررہے ہیں، گھروں پر چھاپوں کا مقصد ایسا مواد ڈھونڈنا تھا جس سے نیوزی لینڈ پولیس کو تحقیقات میں مدد مل سکے۔
مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ کرنیوالے دہشت گرد کے انکل نے کہا کہ برنٹن ٹیرینٹ کے اقدام نے ہمیں توڑ ڈالا، ہمیں انتہائی افسوس ہے، کرائسٹ چرچ واقعات میں جاں بحق اور زخمی ہونیوالوں کے لواحقین سے معذرت کرتے ہیں۔ٹیری فٹز گیرالڈ کا کہنا ہے کہ میں کچھ سوچنے کے قابل نہیں رہا، بس ٹوٹ چکا ہوں -نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو نماز جمعہ کے موقع پر 28 سالہ برنٹن بیرینٹ نے فائرنگ کرکے 50 نمازیوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کردیا گیا، دہشت گرد نے یہ تمام کارروائی کیمرے کے ذریعے فیس بک پر لائیو بھی دکھائی۔
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو نماز جمعہ کے موقع پر 28 سالہ برنٹن بیرینٹ نے فائرنگ کرکے 50 نمازیوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کردیا گیا، دہشت گرد نے یہ تمام کارروائی کیمرے کے ذریعے فیس بک پر لائیو بھی دکھائی۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ برنٹن ٹیرینٹ کے حملے میں ملوث ہونے کا ٹی وی کے ذریعے پتہ چلا، یہ بالکل بھی اچھا نہیں ہوا، اس کا مداوا نہیں ہوسکتا۔
No comments: