Select Menu

اہم خبریں

clean-5

بین الاقوامی

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

ٹیکنالو جی

دلچسپ و عجیب

کھیل

Misc

Technology

» » » سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب کی پیشکش منظور کرلی


Image result for ‫سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب کی پیشکش منظور کرلی‬‎

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو کلین چٹ دینے کیلئے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے نیب کو  ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید شیخ کی زیر سربراہی بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی جس میں بحریہ ٹاؤن کراچی کا فیصلہ سنا دیا۔
گزشتہ سماعت پر بحریہ ٹاؤن نے کراچی پروجیکٹ کو کلین چٹ دینے کے لیے 440 ارب روپے کی پیشکش بڑھا کر 460 ارب روپے کردی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
آج بروز جمعرات کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کراچی پروجیکٹ کو کلین چٹ دینے کے عوض 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن 27 اگست تک 25 ارب کی ڈاؤن پیمنٹ جمع کرائے گا جبکہ تمام ادائیگی 7 سال میں کرنے کا پابند ہوگا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بحریہ ٹاؤن ستمبر سے ماہانہ 2.25 ارب روپے چار سال تک ادا کرے گا اور پھر بحریہ ٹاؤن آخری 3 سال میں بقیہ رقم ادا کرنے کا پابند ہوگا۔آخری 3 سال کی رقم پر بحریہ ٹاؤن کو 4 فیصد مارک اپ بھی ادا کرنا ہوگا جبکہ بحریہ ٹاؤن تمام 460 ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا۔
فیصلے کے مطابق مکمل ادائیگی کے بعد زمین بحریہ ٹاؤن کے نام منتقل ہوگی اور مسلسل تین قسطیں دینے میں ناکامی پر بحریہ ٹاؤن کو ڈیفالٹ قرار دیا جائے گا اور نیب کو دوربارہ تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن رہائشیوں کو 99 سال کی لیز دے گا۔عدالت نےقرار دیا ہے کہ نیب نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ہوا تو سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔ عدالت فریقین کو سن کر ہی ریفرنس کے متعلق فیصلہ کرے گی۔سماعت کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ تمام رقم سندھ حکومت کو جمع کرائی جائے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پیسے آنے تو دیں، آپ نے پہلے ہی لڑائی ڈال لی۔جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ سندھ حکومت تو کہتی تھی اس کا نقصان ہی نہیں ہوا اور سندھ حکومت کتنے پیسوں پر راضی تھی یہ بھی پتا ہے۔بحریہ ٹاؤن کو سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کے خلاف 2015 میں کراچی انڈی جنیس رائٹس الائنس قائم ہوا جس کی سربراہی ایم پی اے سلیم بلوچ کر رہے تھے جبکہ ایم این اے حکیم بلوچ، ایم پی اے شفیع جاموٹ، تاریخ دان گل حسن کلمتی، سماجی کارکن مستی خان اور سابق دیہی ناظم خدا ڈنو بھی اس میں شامل تھے۔
کراچی انڈی جنیس رائٹس الائنس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے 2011 میں حکم دیا تھا کہ حکومت اپنی ملکیتی اراضی کسی نجی ادارے کو الاٹ نہیں کرسکتی جبکہ سندھ حکومت نے بحریہ ٹاؤن کو اراضی الاٹ کردی جو نہ صرف سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 اور سندھ گوٹھ آباد ایکٹ 1987 کے تحت بھی غیرقانونی ہے۔سپریم کے حالیہ فیصلے کے چند روز قبل کراچی انڈی جنیس رائٹس الائنس نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے مئی 2018 کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے جس میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی سے سرکاری اراضی واپس لی جائے۔


رائے غلام عباس کھرل Shakoor

رائے غلام عباس کھرل کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور کسووال پریس کلب رجسٹرڈ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments: