Select Menu

اہم خبریں

clean-5

بین الاقوامی

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

ٹیکنالو جی

دلچسپ و عجیب

کھیل

Misc

Technology

کیلے میں کئی بیماریوں کا علاج


Image result for ‫کیلا بیماریوں کے لیئے‬‎

کیلا سال کے بارہ مہینے دستیاب رہنے والا پھل ہے، جو بہت زیادہ مہنگا بھی نہیں ہوتا۔عام طور پر کیلے کے بغیر کسٹرڈ اور فروٹ چاٹ نامکمل تصور کیے جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ذائقہ کی وجہ سےکیلا شوق سے کھاتے ہیں، لیکن اس کی طبی افادیت سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے، یہ غذائی اجزاءسے بھرپور پھل ہے۔ کیلے میں سیب کی نسبت چار گنا زیادہ پروٹین، دوگنا زیادہ کاربوہائیڈریٹس،تین گنا زیادہ فاسفورس،پانچ گنا زیادہ وٹامن اے اوردیگر وٹامنز اور منرلز بھی سیب کی بہ نسبت دُگنے ہوتے ہیں۔کیلے میں تین قسم کی شوگر پائی جاتی ہے ( سکروز،فرکٹوز اور گلوکوز)، جوکیلے کے ریشوں میں موجود ہوتی ہے۔ ان اجزاءکے ساتھ یہ فوری،دیر پا اور حقیقی توانائی فراہم کرتا ہے۔کیلا ایک ایسا پھل ہے جو ناصرف توانائی سے بھرپور ہے بلکہ اس میں کئی بیماریوں کا علاج بھی پوشیدہ ہے، اس کے علاوہ بعض بیماریوں میں لوگ کیلا کھانے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔

بلڈ پریشر میں مفید

جو افراد بلڈ پریشر کے مرض کا شکار ہیں توانھیں چاہیے کہ کیلے کا استعمال کریں، کیونکہ اس میں قدرتی طور پر الیکٹرولائٹ کی بڑی مقدارموجود ہوتی ہے۔ بلند فشار خون کو معتدل رکھنے میں کیلا بہت مفید ہے ۔کیلے میں پائی جانے والے پوٹاشیم کی بھاری مقدار اور اس کے مقابل نمکیات کی کم مقدار خون کے دورانیہ کو بہتر بناتی ہے۔

ذیابطیس میں استعمال

ذیا بطیس کے مریضوں کے لیے کیلامضر صحت سمجھا جاتاہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ گلائمکس انڈیکس میں شامل ہونے کی وجہ سے کیلا ذیا بطیس کے مرض کے لیے انتہائی مفید ہے اور طبی ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

موٹاپے سے بچاؤ

کیلے کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ اس کو کھانے سے انسان موٹاپے کا شکار ہوسکتا ہے۔ در حقیقت کیلے میں کم لحمیات ہوتے ہیں اور یہ کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلے میں شامل وٹامن بی6، معدنیات اور دیگر اجزاء وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، لہٰذا ایسے افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ کیلا باقاعدگی سے کھائیں۔

توانائی کی فوری بحالی

ایک تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد توانائی کی بحالی کے لئے دو کیلے کھاناکافی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کیلا دنیا کے معروف ترین ایتھلیٹس کا پسندیدہ ترین پھل ہے۔ کیلا ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرنے کے علاوہ اسے فٹ رکھنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔اسے اپنی روزمرہ غذائوں میں شامل کرنا بہت سی بیماریوں سے بچائوکا باعث بنتا ہے۔

ڈپریشن کا توڑ

ایک حالیہ سروے سے ثابت ہوا ہے کہ ڈپریشن کے شکار افراد میں کیلے کے استعمال کے بعد نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کیلے میں ایک خاص قسم کا پروٹین پایاجاتا ہے، جو جسم کو آرام پہنچاتا اور طبیعت پر خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔ وٹامن بی6سے بھرپور اس پھل کے استعمال سے آپ خواب آور ادویات کو بھول جائیں گے ۔کیلا جسم میں خون کی کمی نہیں ہونے دیتاکیونکہ یہ آئرن سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیلا دماغی طاقت میں اضافہ بھی کرتا ہے ۔
تحقیق کے مطابق صبح کے ناشتے اور دوپہر کے کھانے میں کیلا کھانے والے طلباءنسبتاً چاق و چوبند رہتے ہوئے سیکھنے کے عمل کا حصہ بنتے ہیں۔کیلے کا استعمال قبض،سینے کی جلن ،خمار،ذہنی تنائو،اعصابی کھنچائواور السر کے لیےمفید ہونےکے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین کے جسمانی درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے جو ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لئے ضروری ہے ۔
امریکا میں استعمال ہونے والے پھلوں میں کیلا پہلے نمبر پرہے۔ امریکی باشندے مالٹے اور سیب خریدنے سے زیادہ کیلے پر رقم خرچ کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کیلا ایک بیکار چیز ہے اور اس کے طبی فوائد بھی حقائق کے برعکس بیان کیے جاتے ہیں مگریہ تصور قطعی طورپر بے بنیاد ہے۔کیلے میں غذائیت کے ساتھ ساتھ کینسر جیسے مرض سے نجات کے بھی خواص موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق Tumor Necrosis Factor یعنی TNF نامی مادہ کینسرکے جراثیم کو کمزور کرنے یا انہیں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔کیلے کے طبی فوائد کئی حوالوں سے مفید ہیں،یہ دل کی دھڑکن کو معمول پررکھنے اور دماغی فالج سے بچاؤ میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔کیلا کھائیں، کیونکہ اس سے آپ کے جسم میں تازگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھر بھراپن) کو معمولی نہ سمجھے


Related image

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق، آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھر بھراپن)، دل کے امراض کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عارضہ، یعنی انسانی صحت سے متعلق دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مرض میں ہڈیوں کی لچک میں کمی آجاتی ہے اور وہ بھربھرے پن اور نرم پڑ جانے جیسے مسائل سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ ہڈیوں کےکمزور ہو جانے کے باعث ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ہڈی ایک زندہ ٹِشو ہے، جو مستقل طور پر بنتی رہتی ہےاور اس کے پُرانے حصے ختم ہوتے رہتے ہیں۔ ہڈی 30 سے 40 برس کی عمر کے دوران اپنی بھرپور حالت میں ہوتی ہے، جبکہ اس کے بعد جوں جوں عمر بڑھتی ہے، ہڈیاں گھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ، کون سے ایسے خلیے ہیں جو ہڈیوں کو بناتے اور توڑتے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیے، ہڈیوں کو توڑتے ہیں، ان ٹوٹی ہوئی ہڈیوں میں پُرانے خلیے کی جگہ نئے خلیے بنتے ہیں۔ اس عمل کو طب کی زبان میں اوسٹیو بلاسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس طرح، ہمارے جسم کے اندر ہڈیوں کے ٹوٹنے اور بننے کے عمل میں توازن قائم رہتا ہے۔
ڈھلتی عمر، ورزش نہ کرنے، متوازن خوراک کی کمی اور خواتین میں ماہواری بند ہونے کے بعد، ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن یا خستہ ہونے کی بیماری میں ہڈیوں کو توڑنے والے خلیے یعنی اوسٹیو کلاسٹ اپنا کام تیز کرکے اوسٹیو بلاسٹ، جو ہڈیوں کے جوڑنے کے خلیے ہیں، ان کے کام کو ضائع کر دیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز اور بننے کا عمل سُست ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کے بھربھرے پن کا آغاز ہو تا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ہڈیاں زیادہ پتلی اور زیادہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر ذرا سا دباؤ پڑنےسے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، مَردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔ عورتوں میں 45 برس کی عمر کے بعد یہ مرض پیدا ہوتا ہے جبکہ مردوں میں 50 برس میں آسٹیوپوروسس ہوتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کریں تو، غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں75سے 84برس کی 97فیصد، جبکہ 45سے 54برس کی 55فیصد خواتین آسٹیوپوروسس کا شکار ہیں۔ یہ بیماری یوں تو پورے جسم کی ہڈیوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن ریڑھ، گھٹنے، کولہے اور کلائی پر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق سورج کی روشنی یا دھوپ سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرض پاکستان کے دیہی علاقوں سے زیادہ شہروں میں پایا جاتا ہے۔ عموماً ہمارے یہاں شہروں میں رہنے والے لوگ جن کا دھوپ میں نکلنا نہیں ہوتا، دودھ نہیں پیتے اور مچھلی نہیں کھاتے، ان لوگوں کو ہڈیوں کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں، ان میں آسٹیوپوروسس کی شرح کم ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ہم نے جتنا جدید لائف اسٹائل اختیار کیا ہے، مثلاً ایئر کنڈیشنر میں سونا، دھوپ میں نہ نکلنا اور موٹاپے کے ڈر سے مناسب غذا نہ لینا،ان تمام عوامل کا نتیجہ آسٹیوپوروسس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، آسٹیوپوروسس کی بعض دیگر وجوہات میں بڑھتی عمر، خاندان میں پہلے سے اس بیماری کا موجود ہونا، جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی عادت، بہت زیادہ کیفین کا استعمال، کیلشیم کی کمی، تھائرائڈ ہارمونز کا مسئلہ، اور اسٹیرائڈز کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔اکثر ماہرین اسے ایک ’خاموش بیماری‘ کا نام بھی دیتے ہیں، کیونکہ اس میں ہڈیوں کی فرسودگی کا عمل کسی تکلیف کے محسوس ہوئے بغیر سُست روی سے جاری رہتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ، آسٹیوپوروسس ہونے کے بعد مریض درد یا تکلیف محسوس کرنے لگے۔ جن لوگوں کو یہ مرض ہو، اگر وہ کسی وجہ سے گِرجائیں، تو گِرنے اور اُٹھنے کے دوران، ان کے ہاتھوں یا پیر کی ہڈی میں فریکچر ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی علامات عموماً دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی ابتدائی علامات میں، مریض کو جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ اُٹھنے بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ، اگر اس مرض میں مبتلا افراد، دواؤں سے بچنا چاہتے ہیں تو صرف بیس منٹ روزانہ سن باتھ لیں (سورج کی دھوپ میں گزاریں)۔ اگر صرف بیس منٹ بھی ایسا کیا جائے تو ہمارے جسم کی روزانہ کی وٹامن ڈی تھری کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ یہ وٹامن ہڈیوں میں کیلشیم کو جمع کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہماری جلد میں یہ وٹامن پہلے سے موجود ہوتا ہے، جو سورج کی روشنی جسم پر پڑنے سےمتحرک ہو جاتا اور ہڈیوں تک کیلشیم کو پہنچا نا شروع کردیتا ہے۔اس کے علاوہ، غذا کے ذریعے مردوں اور خصوصاً خواتین کو کیلشیم ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ یہ دودھ اور اس سےبنی دیگر اشیاء، ہری سبزیوں اور مچھلی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، فاسفورس، پروٹین اور نمک کا روزانہ ضرورت سے زیادہ استعمال کرناآسٹیوپوروسس کی وجہ بنتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ پروٹین اور فاسفورس پر مشتمل غذائیں، پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں۔ ریفائنڈ شوگر بھی جسم میں کیلشیم کی کمی بڑھاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، ہر سال پاکستان میں ہڈی ٹوٹنے کے کئی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ آسٹیوپوروسس ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے، احتیاط کے علاوہ، جسمانی سرگرمیوں اور غذا کی جانب توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔



مکئی کھائیں اور کئی بیماریوں سے محفوط رہو


Related image

قدرت نے کئی ایسی چیزیں پیداکی ہیں جن کو انسان اپنی خوراک کا حصہ بناکر کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے اور اگر بیماریوں کا شکار ہو بھی گیا ہوتو ان کو خوراک کا حصہ بناکران سے مستفید ہوسکتا ہے۔آج ہم آپ کو ایک ایسی چیز کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جو آپ کو ہمیشہ صحت مند رکھنے میں اہم کردارادا کرسکتی ہے۔ ہم میں سے بہت کم لوگ ہی ایسے ہونگے جومکئی کا استعمال روز مرہ زندگی میں کرتے ہونگے جبکہ پہلے اس چیز کا باقاعدہ استعمال کیا جاتا تھا اور اس کی روٹی بھی بنائی جاتی تھی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اب اس کا استعمال بہت کم ہوگیا ہے ۔لیکن ہمیں پوری امید ہے کہ آپ یہ پڑھنے کے بعد مکئی کے استعمال کو اپنی روز مرہ زندگی میں شامل کرلیں گے۔تو آئیے جانتے ہیں مکئی سے ہمیں کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
1- مکئی میں وٹامن بی موجود ہوتا ہے جو انسان کو جسمانی توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
2-  اس میں نشاستہ موجود ہوتا ہے اور ہم سب ہی تقریبا جانتے ہیں کہ نشاستہ انسانی جسم کی توانائی کو بحال کرنے کے لئے کتنا مفید ہے۔
3- مکئی کا استعمال بینائی کو بہتر بنانے میں نہایت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
4- مکئی میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو کینسر کے مرض کو آپ کے قریب بھی آنے نہیں دیتے۔
5- مکئی مختلف سبزیوں اور پھلوں کی طرح انتہائی صحت بخش ہے اور اس میں بھی وہ چیزیں شامل ہوتی ہیں جو ہم مختلف سبزیوں اور پھلوں سے حاصل کرتے ہیں۔
6- مکئی میں فاسفورس، مینگنیز، زنک، کاپر اور آئرن جیسے انتہائی توانائی بخش معدنیات پائے جاتے ہیں۔
7- مکئی کے استعمال سے قبض کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔
8- مکئی کی مدد سے خون کی کمی پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں خون بنانے کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
9- مکئی کا استعمال آپ کو ہائی بلڈ پریشر اور زیابطیس کی بیماری سے بھی بچا کر رکھتا ہے۔
ہمیں پوری امید ہے کہ آپ مکئی کے ان حیرت انگیز فوائد کے بارے میں جاننے کے بعد ضرور اس کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں گے کیونکہ ہر انسان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک صحت مند زندگی بسر کرے تاکہ دوسروں کے لئے بوجھ نہ بن جائے۔




خشخاش کے طبی فوائد


Related image

خشخاش کے بیج سفید اورسیاہ دوقسم کے ہوتے ہیں لیکن عام طورپرسفید بیج کا  استعمال  زیادہ  کیا جاتا ہے  ۔یہ مختلف کھانو ں میں استعمال کئے جاتے  ہیں زیادہ تر لوگ کوفتے میں اس کا استعمال کرتے ہیں  مگر  کھانوں میں استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے طبی فوائد بھی ہیں کیونکہ  اس میں  قدرتی طورپر میگنیشیم،میگنیز،آیوڈین،زنک،تھیامن،فولیٹ،کیلشیم،آئرن،فاسفورس ،اومیگاتھری فیٹی ایسڈ اورفائبر پائے جاتے ہیں۔اینٹی انفلیمیشن خصوصیات کے باعث دیگربیماریوں کے لئے بھی مفید ہے ۔

بھرپورنیند 

خشخاش اورتربوز کے بیج برابر مقدار میں پیس  کررکھ لیں رات کو  سونے سے آدھے گھنٹے پہلے دودھ کے ساتھ ایک چمچ کھالیں ۔

سوکھی خارش

خشخاش کا  پاؤڈر  بنا لیں  اور اس میں تھوڑا سا لیموں کا رس ملا لیں اور اس میں اتنا پانی ڈال لیں کہ لوشن بن جائے  اور اسے متاثرہ جگہ پر لگا لیں خارش جتم ہوجائے گی ۔

دماغی صحت

خشخاش اور بادام کو پیس لیں  اور سونے سے پہلے ایک  چمچ کا استعمال کریں  اس سے دماغی صحت میں بہتری آئے گی ۔

وزن میں کمی

خشخاش میں اومیگاتھری فیٹی ایسڈ پائے جاتے ہیں جووزن کو کم  کرنے  میں اہم کرداراداکرتے ہیں اس کا روزانہ کا استعمال آپ کے وزن  میں کمی کا سبب بن سکتا ہے  ۔

نزلہ زکام  اورکھانسی

خشخاش کوپانی میں پکاکرایک چٹکی نمک ملا لیں   اورٹھنڈاہونے پرچھان کرپی لیں نزلہ  زکام اور کھانسی ٹھیک ہوجائے گی  ۔

جوڑوں کادرد

خشخاش کا تیل جوڑوں کے درد کے لئے بہہت مفید ہے اگر  دوا کی جگہ اس کا استعمال  کیا جائے  تو درد بھی تھیک ہوجائے گا اور دوا کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

سرکی خشکی

سرکی خشکی کی وجہ سے کافی لوگ پریشان نظر آتے ہیں   اور اس کا آسان سا علاج ہے کہ خشخاش کو پیس کر اس میں دہی ملا لیں اور جہا ں  جہا  ں خشکی  ہے اس جگہ پر لگائیں  خشکی ختم ہوجائے گی ۔


مچھلی کےفوائد



Image result for fry fish

مچھلی اللہ کادیا ہوا انمول تحفہ ہے اور یہ ہمارے جسم کے لئے بہت فائدے مند ہے مچھلی سے ہمارے جسم کو پروٹین حاصل ہوتا ہے اور اس کے کھانے کا نقصان بھی نہیں ہوتا ہے ۔اگر کوئی شخص بیمار ی کی وجہ سے کمزور ہو تو مچھلی کے استعمال سے کمزوری ختم ہوجاتی ہے مگر آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں مچھلی کے 5 ایسے فوائدجس کا آپ کو اس سے پہلے علم نہیں ہوگا۔
  1. مچھلی ہماری آنکھوں کے لئے بہت فائدے مند ہے اس کہ کھانے سے بینائی کی کمزوری ختم ہوجاتی ہے ۔
  2. مچھلی سے دماغی کمزوری بھی ختم ہوتی ہے اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔
  3. مچھلی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دل کی بیماری نہیں ہوتی ہے ۔
  4. اعصابی دباؤ کو کم کرنے کے لئے بھی مچھلی کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے ۔
  5. سردیوں میں مچھلی کھانے سے جسم کو توانائی حاصل ہوتی ہے جس سے جسم کو گرمائش حاصل ہوتی ہے ۔


گٹھنے کے جوڑوں کے درد سے نجات کے لیئے حیرت انگیز نسخہ


Image result for ‫گٹھنے کے جوڑوں کے درد سے نجات‬‎

جسم کے ہر جوڑ کی اپنی اہمیت ہے لیکن گھٹنے کے جوڑوں کی اہمیت ان سب میں زیادہ ہے۔ کھڑے ہونا ہو، چلنا ہو، بیٹھنا ہو، جھکنا ہو یا بھاگنا، ہر طرح کی حرکت کا انحصار گھٹنوں کے جوڑوں پر ہی ہوتا ہے۔آپ بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کی جوڑوں میں سوزش ہوجائے تو انسان کیلئے چلنا پھرنا بھی دوبھر ہوجاتا ہے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ گھٹنوں میں معمولی سی تکلیف بھی محسوس ہو تو فوراً اس کے علاج پر توجہ دیں ورنہ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ سنگین ہوتا جاتا ہے۔
گھٹنوں کے مسائل کے لئے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ہی بہتر طریقہ ہے لیکن اگر کسی قدرتی نسخے سے فائدہ ہو جائے تو اس سے بہتر کیا ہے۔ ایک غیر ملکی ویب سائٹ پر گٹھنے کے جوڑوں کے درد سے نجات کیلئے ایک ایسا ہی سادہ نسخہ شائع کیا گیا ہے۔
اس نسخے کی تیاری کے لئے یہ اجزاء درکار یوں گے۔

٭ لچکدار پٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک عدد
٭ نمک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو چمچ
٭ انڈے کی زردی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو عدد

زردی میں نمک ڈال کر اسے اچھی طرح پھینٹ لیں۔ پھر روئی پر لگا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں اور اس کے اوپر پٹی باندھ لیں۔ دو گھنٹے تک یہ پٹی لگی رہنے دیں اور پھر اسے کھول دیں۔ دن میں چار مرتبہ یہی عمل کریں فرق آپ کو خود ہی محسوس ہونا شروع ہوجائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک میں میگنیشیم موجود ہوتا ہے جو درد میں کافی کمی لاتا ہے۔ انڈے کی زردی میں معدنیات اور پروٹین وافر مقدرا میں پائی جاتی ہے جو جلد میں جذب ہوکر ہڈی اور عضلات کو طاقت دیتی ہے۔اس قدرتی نسخے کے استعمال سے جلد ہی مثبت نتائج محسوس ہونے لگتے ہیں، تاہم اگر علامات باقی رہیں تو ماہر معالج سے رابطہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔