
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ پاک بھارت تنازع صرف کشمیر ہے،مسئلہ حل کرنا ہوگا،ابلتا ہوا نہیں چھوڑ سکتے۔تفصیلات کے مطابق، منگل کو وزیراعظم عمران خان نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی )کوانٹرویو دیتےہوئے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو پیغام میں کہا کہ پاکستان،بھارت کے درمیان صرف ایک تنازع مسئلہ کشمیر ہے،جسے حل کرنا ضروری ہے، مسئلے کو ابلتا ہوا نہیں چھوڑ سکتے،کشمیر میں امن خطے کیلئے بہترین ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 2جوہری طاقتوں میں مسائل صرف مذاکرات سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کوکشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے کیونکہ کشمیرمیں جوکچھ بھی ہورہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے، اس کا الزام پاکستان پرعائد کیا جائے گا اورہم ان پر الزام عائد کریں گے تو کشیدگی بڑھے گی جس طرح ماضی میں بڑھتی تھی۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاک بھارت دونوں ممالک کی اولین ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہیئے،غربت کو کم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اوردونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جوکہ کشمیرہے۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگربھارت پاکستان پردوبارہ حملہ کرتا تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اوراس صورتِ حال میں دوجوہری مسلح ممالک نے جو کیا وہ میرے خیال میں بہت غیرذمہ دارتھا۔عمران خان نے جیش محمد سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پہلے ہی ان تنظیموں کو غیرمسلح کررہے ہیں، ان تنظیموں میں کالعدم تنظیم جیش محمد بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کے مدارس کا کنٹرول سنھبال لیا ہے، ان کی تنظیمیں بھاگ گئی ہیں، یہ جنگجو گروہوں کوغیرمسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔
دہشتگروہ سے متعلق عمران خان نے مزید کہا کہ ہم ان جنگجو گروہوں کیخلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کیلئے ہے، اس حوالے سے بیرونی دباؤ نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مفادات میں ہے کہ ہمارے یہاں کوئی بھی عسکریت پسند گروہ نہیں ہے۔وزیراعظم نے توہین مذہب کے الزام میں بری ہونے والی آسیہ بی بی سے متعلق کہا کہ اس حوالے سے تھوڑی پیچیدگی پائی جاتی ہے اورمیں میڈیا سے اس بارے میں بات نہیں کرسکتا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں میں پاکستان چھوڑکرچلی جائیں گی۔
No comments: